صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 354
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۵۴ ۹۲ - كتاب الفتن کے لئے چلا آتا ہے اور اگر کہو کہ یا جوج ماجوج جنات میں سے ہیں انسان نہیں ہیں تو یہ اور حماقت ہے کیونکہ اگر وہ جنات میں سے ہیں تو سد سکندری ان کو کیونکر روک سکتی تھی جس حالت میں جنات آسمان تک پہنچ جاتے ہیں جیسا کہ آیت فَاتْبَعَة شِهَابٌ ثَاقِب سے ظاہر ہوتا ہے تو کیا وہ سد سکندری کے اوپر چڑھ نہیں سکتے تھے جو آسمان کے قریب چلے جاتے ہیں۔اور اگر کہو کہ وہ درندوں کی قسم ہیں جو عقل اور فہم نہیں رکھتے تو پھر قرآن شریف اور حدیثوں میں ان پر عذاب نازل کرنے کا کیوں وعدہ ہے کیونکہ عذاب گنہ کی پاداش میں ہوتا ہے اور نیز ان کا لڑائیاں کرنا اور سب پر غالب ہو جانا اور آخر کار آسمان کی طرف تیر چلانا صاف دلالت کرتا ہے کہ وہ ذوالعقول ہیں بلکہ دنیا کی عقل میں سب سے بڑھ کر۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳، حاشیه صفحه ۸۵،۸۴) بائیل میں روس کے فرمانرواؤں کو جوج کا نام دیا گیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔” اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ اے آدم زاد جوج کی طرف جو ماجوج کی سر زمین کا ہے اور روش اور مسک اور توبل کا فرمانروا ہے متوجہ ہو اور اس کے خلاف نبوت کر اور کہہ خداوند خدایوں فرماتا ہے کہ دیکھ اے جوج، روش اور مسک اور توبل کے فرمانروا میں تیر ا مخالف ہوں۔“ ( حز قیل باب ۳۸ آیت ۱تا۳) واضح ہو کہ مسک (ماسکو) اور توبل (ٹو بالسک) روس کے ہی مختلف علاقے ہیں۔اور ماسکو شہر دریائے ماسکو کے کنارے آباد ہے اور اسی بنا پر اس شہر کو ماسکو کا نام دیا گیا ہے اس طرح ٹو بالسک شہر نے دریائے تو بل کے کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے ٹو بالسک کا نام پایا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”آپ نے آنے والے مسیح کا وقت یا جوج ماجوج کے ظہور کا زمانہ ٹھہرایا اور یا جوج ماجوج یوروپین عیسائی ہیں۔کیونکہ یہ نام اپنیج کے لفظ سے نکالا گیا ہے جو شعلہ آگ کو کہتے ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ لوگ آگ سے بہت کام لیں گے اور اُن کی لڑائیاں آتشی ہتھیاروں سے ہوں گی اور اُن کے جہاز اور اُن کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی۔(قیام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴، صفحه ۴۰۱) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” کہاں ہے وہ سچا جس کی تصدیق کے لیے جاوا کی آگ نکلی ؟ کہاں ہے وہ سچا جس (الصافات: ١١)