صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 12
صحیح البخاری جلد ۱۶ اله -۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔۔ جو خداتعالی جہنم کی صورت میں ان کو دے گا۔ اس کے بعد سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۱۸ میں یہ ذکر ہے: یہ لوگ (کفار) اگر ان کی طاقت میں ہو تو مسلمانوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کو ان کے دین سے مرتد کر دیں اور جو مرتد ہو جائیں اور اسی حالت میں مر جائیں ) یہاں یموتون یعنی وہ مر جائیں موت کا لفظ ہے قتل کا نہیں) جس سے ان کی طبعی موت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ حالت ارتداد میں جب تک وہ زندہ رہیں گے ان کے اعمال اکارت جائیں گے اور آخرت میں بھی ان کی سزا جہنم ہے۔ اس آیت میں مرتدین کی طبعی موت اور ان کے اعمال کے دنیا و آخرت میں اکارت جانے اور جہنم کی سزا کا ذکر ہے مسلمانوں کے ہاتھوں اُن کے قتل کا ذکر نہیں ہے جس سے اشارۃ النص کے طور پر قتل مرتد کی نفی ہوتی ہے نہ کہ اثبات۔ پس ان آیات کی روشنی میں زیر باب روایات کو دیکھنا ضروری ہے۔ روایات کے متن پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایات کسی بھی اعتبار سے اس لائق نہیں کہ ان پر ایک ایسے مسئلہ کی بنیاد رکھی جائے جس کا تعلق انسانی جان سے ہے۔ قرآن کریم میں تو قتل مرتد کا اشارہ بھی ذکر نہیں جبکہ بکہ ا اس کے برعکس یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ ایک شخص ا بار بار بار بارا اسلام قبول کرے اور بار بار کفر کرے تب بھی اسے زندگی کے آخری لمحہ تک تو بہ کا موقع دینا چاہیے اور صاف طور پر بتا دیا گیا: لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ۲۵۷) کہ دین میں جبر اور سختی نہیں۔ پس قرآن کریم کی اس اصولی راہنمائی کے بعد ان روایات کو دیکھنا ہو گا جن میں مرتد کی سزا قتل بیان کی گئی ہے۔ لي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ : هُ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لائے گئے تو انہوں نے اُن کو جلا دیا۔ علامہ عینی لکھتے ہیں: قولہ: بزنادقة جمع زندیق بكسر الزای فارسی مُعرب، وَقَالَ سِيبَوَيْهِ الْهَاءِ في زنادقة بدل من ياء زنديق - وقد تزندق والاسم الزندقة، واختلف في تفسيره فقيل: هو المبطن للكفر المظهر للإسلام كالمنافق، وقيل: قوم من الثنوية القائلين بالخالقين، وقيل: من لا دين لَهُ، وَقيل: هُوَ من تبع کتاب زردشت المُسمّى بالزند، وقيل هم طائفة من الروافض تدعى السبائية، ادعوا أن عليا رضي الله تَعَالَى عَنهُ إِلاه وكان رئيسهم عبد الله بن سبأ - يفتح السين المهملة وَتَخْفِيفِ الْبَاءِ الْمُوَحَدَة وَكَانَ أَصله يهوديا۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۷۹) زنادقہ زندیق کی جمع ہے، یہ فارسی کا لفظ ہے اور اس کو عربی بنایا گیا ہے۔ سیبویہ نے لکھا ہے کہ زنادقہ میں جو تاء حالت وقف میں ھاء ہوئی ہے وہ زندیق کی یاء سے بدلی ہوئی ہے۔ اس کا فعل تزندق اور اسم زندقہ ہے۔ زندیق کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جو شخص کفر کو چھپاتا ہو اور اسلام کو ظاہر کرتا ہو جیسے منافق، وہ زندیق ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ شویہ کی ایک قوم ہے جو دو خالق مانتے ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ جس شخص کا کوئی دین نہ ہو وہ زندیق ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ جو زردشت کی کتاب الزند کی پیروی کرے اس کو زندیق کہتے ہیں۔ پانچواں قول یہ ہے کہ یہ روافض کی ایک جماعت ہے جس کو السبائیة کہا جاتا ہے، ان کا یہ دعویٰ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خدا ہیں اور ان کا رئیس عبد اللہ بن سبا تھا اور وہ اصل میں یہودی تھا۔