صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 337 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 337

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۳۷ ۹۲ - كتاب الفتن تو وہی لوگ اسلام سے محروم رہ جائیں گے جن پر دروازہ تو بہ کا بند ہے یعنی جن کی فطرتیں بالکل مناسب حال اسلام کے واقع نہیں۔سو تو بہ کا دروازہ بند ہونے کے یہ معنے نہیں کہ لوگ تو بہ کریں گے مگر منظور نہ ہو گی۔اور خشوع اور خضوع سے روئیں گے مگر رڈ کئے جائیں گے کیونکہ یہ تو اس دنیا میں اس رحیم و کریم کی شان سے بالکل بعید ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُن کے دل سخت ہو جائیں گے اور انکو تو بہ کی توفیق نہیں دی جائے گی اور وہی اشرار ہیں جن پر قیامت آئیگی۔منگر و تدبر (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳، صفحه ۳۷۶ تا ۳۷۸) بَاب ٢٦ : ذِكْرُ الدَّجَّالِ دجال کا ذکر << ۷۱۲۲: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۷۱۲۲: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یچی ( قطان) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي قَيْس قَالَ نے ہمیں بتایا۔اسماعیل (بن ابی خالد) نے ہم قَالَ لِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مَا سَأَلَ سے بیان کیا۔قیس (بن ابی حازم) نے مجھے بتایا۔أَحَدٌ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ انہوں نے کہا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ مجھے کہنے الدَّجَّالِ مَا سَأَلْتُهُ وَإِنَّهُ قَالَ لِي مَا لگے: کسی نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال يَضُرُّكَ مِنْهُ؟ قُلْتُ لِأَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ کے متعلق وہ باتیں نہیں پوچھیں جو میں نے آپ مَعَهُ جَبَلَ خُيْرٍ وَنَهَرَ مَاءٍ قَالَ بَلْ هُوَ سے پوچھی تھیں اور آپ نے مجھے فرمایا تمہیں اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔میں نے کہا: میں اس أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ۔لئے پوچھ رہا ہوں کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ ہو گا اور پانی کا دریا ہو گا۔آپ نے فرمایا: اس سے بڑھ کر بھی بات اللہ پر آسان ہے۔:۷۱۲۳: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۷۱۲۳: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِع وہیب نے ہمیں بتایا۔ایوب نے ہم سے بیان کیا۔