صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 336 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 336

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۳۶ ۹۲ - كتاب الفتن سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور اُن کو اسلام سے حصہ ملے گا۔اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق اُن کا جسم ہو گا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریر میں اُن لوگوں میں پھیلیں گی۔اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کے شکار ہو جائیں گے۔در حقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے گویا خدائے تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔نبیوں کا سلسلہ بھی اول سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے۔اب خدائے تعالی ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔اور یاد رہے کہ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ طلوع الشمس من مغربنا کے کوئی اور معنے بھی ہوں میں نے صرف اُس کشف کے ذریعہ سے جو خدائے تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے مذکورہ بالا معنے کو بیان کیا ہے۔اگر کوئی مولوی ملا ان الہی مکاشفات کو الحاد کی طرف منسوب کرے تو وہ جانے اور اس کا کام۔و ما قلت من عند نفسى بل اتبعت ما كشف على والله بصير بحالی وسميح لمقالى فاتقوا الله ايها العلماء لیکن اگر کوئی اس جگہ یہ سوال کرے کہ جب مغرب کی طرف سے آفتاب طلوع کرے گا تو جیسا کہ لکھا ہے تو بہ کا دروازہ بند ہو جائے گا تو پھر اگر یہی معنے سچ ہیں تو ایسے اسلام سے کیا فائدہ جو مقبول ہی نہیں۔اِس کا جواب یہ ہے کہ توبہ کا دروازہ بند ہونے سے یہ مطلب تو نہیں کہ تو بہ منظور ہی نہیں ہو گی۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب ممالک مغربی کے لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہو جائیں گے تب ایک انقلاب عظیم ادیان میں پیدا ہو گا۔اور جب یہ آفتاب پورے طور پر ممالک مغربی میں طلوع کرے گا