صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 335 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 335

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۳۵ ۹۲ - كتاب الفتن ہزار سال ہے ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے جس میں مال کی فراوانی ہونے اور صدقہ لینے والوں کی صدقہ سے انکار کی باتیں اور اونچی اونچی عمارتیں بنانے اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا ذکر ہے۔ان میں سے اکثر علامتیں پوری ہو چکی ہیں۔دو بڑے گروہوں کی جنگ سے مراد عالمی جنگ بھی ہو سکتی ہے دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ کہ ان کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔دونوں بڑی طاقتیں دعویٰ کریں گی کہ ہم دہشت گردی، انتہا پسندی اور فتنہ و فساد کو ختم کرنے کے لیے یہ جنگیں کر رہے ہیں حالانکہ مقاصد اس کے بالکل برعکس ہوں گے۔تیسری عالمی جنگ کے اب آثار ظاہر ہو رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ممکن ہے ان بڑی بڑی طاقتوں کے غرور اور تکبر ملیا میٹ ہو جائیں اور ان قوموں کو داعی اسلام کی آواز پر کان دھرنے کا موقع ملے۔جیسا کہ قرآنِ مجید میں اس پیشگوئی کو خاص شان سے بیان کیا گیا ہے فرماتا ہے: وَ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفات (طه: ۱۰۶) اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ ان کو میرا رب اکھاڑ کر پھینک دے گا اور غلبہ اسلام کا سورج مغرب سے پوری شان سے طلوع ہو گا۔سب ایمان لے آئیں گے سوائے ان کے جن پر توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہو گا۔سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی ایک آخری شکل نظام شمسی میں بہت بڑے تغیر کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے جس سے دنیا کا خاتمہ ہو گا مگر یہ علامت قرب قیامت کی ہے۔حَتَّى تَطلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِيهَا: جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ کرے وہ گھڑی برپا نہ ہو گی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: ”ہمارے زمانے کے نذیر ربانی نے جہاں عذاب الہی کے بارے میں لرزا دینے والے الفاظ میں ذکر فرمایا ہے وہاں اس کے ساتھ آنحضرت صلی الم کی اس پیشگوئی کا بھی ذکر کیا ہے جس میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا اور اس سے مراد اسلامی طلوع آفتاب ہے یعنی مسیحی اقوام مغربیہ آخر اسلام کی طرف رجوع کریں گی۔یہ عظیم الشان پیشگوئی ان گوناں گوں عذابوں کے بیچوں بیچ بھی آشکار ہو گی۔ہمارے رحمن اور رحیم رب العالمین کو اپنے عاجز بندگان کی سزا سے کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ایسا تصور نہایت ہی بھونڈا ہے۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب التفسير سورة السباء جلد ۱۱، صفحه ۲۱۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ایسا ہی طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہو گا۔ہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رویا میں ظاہر کیا گیاوہ یہ ہے جو مغرب کی طرف