صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 11
صحيح البخاری جلد ۱۹ -۸۸ کتاب استتابة المرتدين باب میں مذکورہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۸۷ کے مضامین کا خلاصہ یا اہم نکات یہ ہیں: (۱) وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد جبکہ وہ رسول کی سچائی کے گواہ بن چکے تھے اور اُن نشانات کا مشاہدہ کر چکے تھے جو رسول لے کر آیا، ان نشانات کو دیکھنے کے بعد اُن کا ارتداد اس بات کا مظہر ہے کہ وہ دیدہ دانستہ سچائی سے منہ پھیر رہے ہیں اور ان کا ارتداد اُن کی ہٹ دھرمی اور بلا جواز ہے۔اس کے باوجود ان آیات میں ان مرتدوں کی کوئی بدنی اور دنیوی سزا بیان نہیں کی گئی بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ ایسے ظالم اپنے اوپر ہدایت کے دروازے خود بند کرتے ہیں۔ان کے اس فعل کے نتیجے کا اعلان ان الفاظ میں کیا : والله لا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ (آل عمران: ۸۷) یعنی اللہ اُن لوگوں کی راہنمائی نہیں کرتا جو ظالم ہوتے ہیں۔زیر باب اگلی آیت جو کہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۱ ہے اُس میں مومنوں کو اُن ازلی بد بختوں کی صحبت سے منع کیا گیا کیونکہ جو گندا ہے اس کی صحبت بھی گندی اور اس کی تاثیر بھی گندی ہوگی اس لئے ان ناپاک لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھر و۔اس آیت میں بھی ان مرتدوں کی کسی بدنی سزا یا قتل کا کوئی ذکر نہیں بلکہ ان کے زندہ رہنے اور بُری تاثیر کا ذکر ہے۔اگر وہ قتل ہو جاتے تو اس آیت میں مذکور مضمون بے محل ہوتا اور ایسا عبث کام خدا نہیں کرتا اور اس کا کلام بے معنی باتوں سے پاک ہے۔پھر سورہ نساء کی آیت نمبر ۱۳۸ جو قتل مرتد کے خلاف ایسی شمشیر برہنہ اور دلیل قاطعہ ہے کہ کوئی باشعور انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔یہ تو آفتاب آمد دلیل آفتاب کی مثل ہے۔فرماتا ہے : وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کا فر ہو گئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھ گئے۔حامیان قتل مرتد اس اظہر من الشمس آیت سے کیسے آنکھیں بند کر سکتے ہیں۔اس آیت میں دو دفعہ ایمان کے بعد اُن کے کفر کا ذکر ہے۔اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو دوسری دفعہ نہ ان کو ایمان لانے کا موقع ملتا نہ کفر کا اور نہ کفر میں بڑھنے کا۔یہ آیت مرتدوں کی زندگی بلکہ لمبی زندگی کی نوید سناتی ہے۔اتنے واضح اور کھلے کھلے کلام کے سامنے کسی کی مجال ہے کہ دم مار سکے۔اس سے اگلی آیت جو سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۵۵ ہے ایک ایسی پیشگوئی اور وعدہ الہی پرمشتل ہے کہ کسی مومن کا مرتد کو قتل کرنا تو دور کی بات ہے اُس کے ارتداد پر مومن پریشان بھی نہیں ہو گا بلکہ خوش ہو گا اور اس کے جسم اور روح کا ذرہ ذرہ اس نوید مسرت سے جھوم اُٹھے گا کہ خس کم جہاں پاک۔بلکہ یہ محاورہ تو اس شاندار پیشگوئی کا عشر عشیر بھی نہیں ہے کیونکہ مومنوں کو اس آیت میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ ایک گندے شخص کے نکلنے اور مرتد ہونے کے بعد خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں ایک عظیم الشان قوم تمہیں دے گا جو خدا کے پیاروں کی جماعت ہو گی اور سابقون الاولون سے محبت کرنے والی، اُن سے عجز اور احترام کا تعلق رکھنے والی خدا کی پیاری جماعت ہو گی۔ایک مرتد کے جانے پر اتنے بڑے انعام کے وعدہ کے ہوتے ہوئے کوئی مومن مرتد کے قتل کا گند اپنے اوپر ڈالنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور اس پیپ کے پھوڑے پر تو نشتر مارنا بھی مومن کی نفاست اور پاکیزگی گوارہ نہیں کرتی۔پھر سورۂ محل آیات نمبر ۷ ۱۰ سے ۱۱ اتک ان بدنصیب مرتدوں کے آخرت میں بُرے انجام کا ذکر کر کے مومنوں کو بتا دیا کہ ان مرتدوں کو سزا دینے کی تمہیں ضرورت نہیں۔یہ خدا کی سزا سے نہیں بچ سکتے۔جہنم ان کا مقدر بن چکی ہے اور وہ اُخروی سزا بہت بڑی سزا ہے۔ان آیات میں بھی مرتدوں کی کسی دنیوی سزا کا ذکر نہیں بلکہ اُخروی سزا کا ذکر ہے