صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 332
صحیح البخاری جلد ۱۶ چنگاریاں پھینک رہی تھی۔ ۳۳۲ ۹۲ - كتاب الفتن امام نووی فرماتے ہیں کہ ۲۵۴ ھ میں مدینہ کے مشرقی جانب حرہ کے پیچھے سے ایک بہت بڑی آگ روشن ہوئی تھی ملک شام اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کو متواتر اس کا علم ہے۔ کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: نار حجاز کی حدیث جو صحیحین میں درج ہے کچھ شک نہیں کہ احاد میں سے ہے لیکن وہ پیشگوئی قریبا چھ سو ۲۰۰ برس گزرنے کے بعد بعینہ پوری ہو گئی جس کے پورے ہونے کے بارے میں انگریزوں کو بھی اقرار ہے اور اُس زمانہ میں پوری ہوئی کہ جب صد ہا سال ان کتابوں کی تالیف اور شائع ہونے پر بھی گذر چکے تھے“ ( شَهادَةُ القرآن، روحانی خزائن جلد ۶، صفحه ۳۰۵) زیر باب دوسری روایت ۱۹ اے میں فرات سے سونے کا پہاڑ یا سونے کے خزانے کے نکلنے کی پیشگوئی ہے۔ پیشگوئیاں جب پوری ہو جائیں تو ان کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ پیشگوئیوں کا ظہور مختلف زمانوں میں مختلف انداز میں ہوتا ہے اور ہر پیشگوئی پوری ہو کر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قیامت تک ہے اور آپ کی پیشگوئیوں کے ظہور کا زمانہ بھی قیامت تک ممتد ہے۔ فرات کے متعلق اس پیشگوئی کا جب ظہور ہو گا دنیا اس کی صداقت کی گواہ بن جائے گی۔ باب : ٢٥ ۷۱۲۰ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۷۱۲۰: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی (قطان) عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مَعْبَدٌ قَالَ سَمِعْتُ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے روایت کی حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ کہ معبد نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: میں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نے حارثہ بن وہب سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں تَصَدَّقُوا فَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ فرماتے تھے: صدقہ دو کیونکہ لوگوں پر عنقریب مَنْ يَقْبَلُهَا ۔ قَالَ مُسَدَّدٌ حَارِثَةُ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے صدقے کو (البداية والنهاية، ثم دخلت سنة أربع وخمسين وستمائة جزو ۱۳، صفحہ ۱۸۸،۱۸۷) المنهاج شرح صحيح مسلم ، کتاب الفتن وأشراط الساعة، جز و ۱۸، صفحه ۲۸)