صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 326 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 326

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۲۶ ۹۲ - كتاب الفتن ۷۱۱۳: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۱۳ ۷۱: آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلِ الْأَحْدَبِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے واصل احدب عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ سے، واصل نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت قَالَ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ حذیفہ بن یمان سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آج کل کے منافق ان منافقوں سے بدتر ہیں جو وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَئِذٍ يُسِرُّونَ وَالْيَوْمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے اُن دنوں تو وہ چھپاتے تھے اور آج یہ اعلانیہ نفاق کرتے يَجْهَرُونَ۔ ہیں۔ ٧١١٤: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ۷۱۱۴: خلاد بن يحي نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي (بن کدام) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حبیب ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ حُذَيْفَةَ بن ابي ثابت سے، حبیب نے ابوالشعثاء سے، رم قَالَ إِنَّمَا كَانَ النِّفَاقُ عَلَى عَهْدِ ابو الشعثاء نے حضرت حذیفہ سے روایت کی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا اُنہوں نے کہا: نفاق تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكُفْرُ بَعْدَ الْإِيمَانِ۔ زمانہ میں بھی تھا مگر آج تو ایمان کے بعد صرف کفر ہی ہے۔ تشريح : يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: قیامت کے دن ہر دغا باز کے لئے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا۔ ابواب کی ترتیب میں امام بخاری نے زیر تشریح باب میں اسی اہم نکتہ کو بیان کیا ہے کہ منافقت جو حکام اور ان کی رعایا کے بعض لوگوں میں جزولاینفک کی طرح ہو جاتی ہے یہ تمام فتنوں کی جڑ ہے۔ ہر نظام چاہے وہ دینی ہو یا دنیوی اس میں اگر منافقت پنپنے لگے تو نظام درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ امام بخاری ان فتنوں کے متعلق ابواب اور ان کے ذیل میں ا ں احادیث سے یہ باور ! سے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اولین کے اس دور میں ان فتنوں کے بانی مبانی منافقین تھے جن کا وطیرہ یہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں کے سامنے کچھ اور کہتے ہیں اور عوام کے سامنے کچھ اور۔ یوں نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کے متعلق انذاری پیشگوئی میں اسی فتنہ کی طرف اشارہ تھا۔ اسلام کے سرعت سے پھیلنے اور نو مبائعین کے لیے تربیت کے خاطر خواہ نظام کے استحکام سے قبل منافقین نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی ریشہ دوانیوں سے اسلام کے مضبوط قلعے کو ان