صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 327
۳۲۷ صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲ - كتاب الفتن فتنہ گروں کی آماجگاہ بنادیا اور انتشار کی ایسی فضا قائم ہو گئی کہ اسلامی ریاست کا شیرازہ بکھر گیا۔بصرہ میں خارجیوں کی یورش ، مکہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کی قیام خلافت کی ناکام کوشش، اور یزید کی حکومت کے مضبوط علاقوں، مدینہ جیسے شہر میں اس کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا گیا۔صحابہ کا ایک گروہ استحکام خلافت کے لیے (اس وقت جو بھی اس کی شکل تھی) کوشاں رہا۔حضرت ابن عمرؓ نے حکومت وقت سے بغاوت کو گناہ کبیرہ قرار دیا اور اپنے خاندان کو حکومت وقت سے وفا کا درس دیا اور ان کی راہمنائی اور تربیت کے لیے غداری کے گناہ عظیم کو نمایاں طور پر پیش کیا۔جیسا کہ زیر باب روایت میں حضرت ابن عمر کی اپنے خاندان کے لوگوں کو کی گئی نصائح سے واضح ہے۔امام بخاری کا نکتہ نظر بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس حکومت کے ماتحت ہوں اس سے غداری کرنا جائز نہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: غدار کی فضیحت نمایاں کی جائے گی۔دنیا میں بھی وہ بدنام ہوتا ہے اور چاروں طرف سے انگشت نمائی ہوتی ہے کہ فلاں بد عہد ہے اور آخرت میں بھی اس کی رسوائی۔یہی مفہوم ہے غادر کے لئے علم نصب کئے جانے کا۔لِكُلِ غَادِرٍ لِوَاءِ يُنصَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِغَنْدَتِهِ أَى بِقَدَرٍ غَنْدَتِهِ یعنی غدار کی غداری کے مطابق علم بلند کیا جائے گا۔عربوں میں دستور تھا کہ وہ اپنے عہد کا سفید جھنڈا اور غداری کا سیاہ جھنڈا نصب کرتے تھے۔(فتح الباری جزء۶ صفحہ ۳۴۱) چونکہ آخرت میں جزا سزا اعمال کے مماثل ہو گی، اس لئے ہر غدار اور عہد شکن کے لئے اس کی غداری کے مطابق جھنڈ ابلند ہو گا۔“ (صحيح البخارى ترجمه و شرح كتاب الجزية والموادعة ، باب المِ الغَادِر للبر والفَاجِر ، جلد ۵ صفحه ۵۴۹) بَاب ۲۲ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُغْبَطَ أَهْلُ الْقُبُورِ وہ گھڑی اس وقت تک بر پا نہیں ہو گی جب تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کھائیں ٧١١٥: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۱۱۵: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ مجھے بتایا۔اُنہوں نے ابو زناد سے، ابو زناد نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ روایت کی۔آپ نے فرمایا: وہ گھڑی اس وقت