صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 10
صحيح البخاری جلد ۱۶ 1۔۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا کون ہے ؟ اُنہوں نے کہا: یہ پہلے یہودی تھا پھر أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مسلمان ہوا پھر اس کے بعد یہودی ہو گیا۔حضرت ابو موسیٰ نے کہا: بیٹھ جائیں۔حضرت معاذ نے کہا: مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي۔میں نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ اس کو قتل کیا جائے۔یہی اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے۔اُنہوں نے تین بار یہی کہا۔چنانچہ حضرت ابو موسی نے اس کے متعلق حکم دیا اور وہ مار ڈالا گیا۔پھر وہ دونوں رات کی عبادت کا آپس میں ذکر کرنے لگے تو اُن میں سے ایک نے کہا: میں تو رات کو اٹھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنے سونے میں اسی ثواب کی امید رکھتا ہوں جو اپنے اٹھنے میں رکھتا ہوں۔أطرافه: ٢٢٦١ ، ٣٠٣٨، ٤٣٤١، ٤٣٤، ٤٣٤٤، ٦١٢٤، ٧١٤٩، ١٥٦، ١٥٧، ٧١٧٢۔رح : حُكْمُ الْمُرْتَدِ وَالْمُرْتَدَّةِ وَاسْتِتابوهم: مرتد مرد اور مرتد عورت کے متعلق حکم نیز ان سے تو بہ لئے جانے کے متعلق حکم۔حضرت مولوی شیر علی صاحب فرماتے ہیں: حضرت ابن عباس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ مرتدہ کو قتل نہ کیا جاوے۔روی ابو حنيفة عن عاصم عن ابی رزين عن ابن عباس لا تقتل النساء اذا من ارتد دن (مینی، شرح بخاری جلد ۱۱ صفحه ۲۳۲) اگر محض ارتداد قتل کا موجب ہو تا تو عورت و مرد دونوں مساوی سمجھے جانے چاہیئے تھے کیونکہ ارتداد میں دونوں یکساں ہیں۔عورت کو قتل سے مستی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ محض ارتداد کی سزا قتل نہیں بلکہ قتل کی سزا محارب ہونے کی وجہ سے دی جاتی تھی اور چونکہ عورتیں عموماً محارب نہیں ہو تیں اس لیے ان کو قتل سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔“ ( قتل مرتد اور اسلام، صفحہ ۲۱۱) امام بخاری نے اس باب میں قرآن کریم کی تیرہ آیات سے قتل مرتد کی نفی اور تردید جس شان اور حکمت سے بیان کی ہے اُسے سامنے رکھ کر زیر باب روایات کو سمجھنا چاہیئے۔