صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 322
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۲۲ ۹۲ - كتاب الفتن رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ قَالَ أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَى عمرو بن دینار) کہتے تھے اور میں نے حرملہ کو دیکھا عَلِيّ وَقَالَ إِنَّهُ سَيَسْأَلُكَ الْآنَ ہوا ہے وہ کہتے تھے: حضرت اسامہ نے مجھے حضرت فَيَقُولُ مَا خَلَّفَ صَاحِبَكَ؟ فَقُلْ لَهُ علی کے پاس بھیجا اور کہا: حضرت علی تم سے اب يَقُولُ لَكَ لَوْ كُنْتَ فِي شِدْقِ الْأَسَدِ کچھ پوچھیں گے کہیں گے تمہارا ساتھی پیچھے کیوں لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِيهِ وَلَكِنَّ رہ گیا ہے؟ تو تم اُن سے کہنا کہ اُسامہ آپ سے یہ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا کہتا ہے کہ اگر آپ شیر کے جبڑے میں بھی ہوں تو فَذَهَبْتُ إِلَى حَسَنٍ وَحُسَيْنِ وَابْنِ میں ضرور ہی پسند کروں کہ میں بھی آپ ساتھ اُس جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي۔میں رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے کہ جو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔(حرملہ کہتے تھے :) حضرت علیؓ نے مجھے کچھ نہیں دیا تو میں حضرت حسن اور حضرت حسین اور ابن جعفر کے پاس گیا انہوں نے میری اونٹنی میرے لئے لاد دی۔تشريح: ريح : إِنَّ ابْنِى هَذَا لَسَيْد وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : نبي صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن بن علی کے متعلق فرمانا: میرا یہ بیٹا تو سر دار ہے اور اُمید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ”حضرت امام حسنؓ کی ولادت رمضان ۳ھ میں اور حضرت امام حسین کی ولادت شعبان ۴ھ میں ہوئی۔اوّل الذکر (حضرت امام حسن) ۵۰ھ میں زہر سے شہید کیے گئے جبکہ وہ مدینہ منورہ میں تھے اور ثانی الذکر (حضرت امام حسین) عبید اللہ بن زیاد کے حکم سے شہید کئے گئے۔“ (صحیح البخاری ترجمه و تشریح، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی ا ، باب ۲۲ جلدی صفحه ۲۴۰) نیز فرمایا: حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے دو مسلمان جماعتوں کے درمیان صلح کی پیشگوئی کا واقعہ تاریخ اسلامی میں مشہور ہے۔عنوانِ باب میں اس کا حوالہ دے