صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 323
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۳۲۳ ۹۲ - كتاب الفتن کر اس کے ذیل میں جنگ سے متعلقہ روایت نقل کی ہے۔آنحضرت علی ایم کے زمانہ میں تو ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جس میں دو گروہ مسلمانوں کے آپس میں برسر پیکار ہوئے ہوں۔مگر آپ کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے نواسے کو توفیق ملی۔“ ( صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب الصلح باب قول النبي الحسن بن علي، جلد ۵، صفحه ۲۲) مسلمانوں میں پھوٹنے والے ان فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: ” یہ وہ خانہ جنگی کی آگ ہے جس کی ابتداء حضرت عثمان کے آخری زمانہ میں ہوئی اور ۴۱ھ میں حضرت امام حسن کے ہاتھوں ایک صلح کے ذریعہ سے مدہم ہوئی اور اس وجہ سے یہ سال عام الصلح کے نام سے مشہور ہوا۔“ (صحیح البخاری، ترجمه و شرح كتاب الجزية والموادعة، باب ما يحدد من الغدر، جلد ۵، صفحه ۵۳۶) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے بیان فرماتے ہیں: حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے ہاں رمضان ۳ ہجری میں یعنی نکاح کے قریبا دس ماہ بعد ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رکھا۔یہ وہی حسن ہیں جو بعد میں مسلمانوں میں امام حسن علیہ الرحمتہ کے نام سے ملقب ہوئے۔حسن اپنی شکل و صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ملتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح اپنی اولاد حضرت فاطمہ سے بہت محبت تھی اسی طرح حضرت فاطمہ کی اولاد سے بھی آپ کو خاص محبت تھی۔کئی دفعہ فرماتے تھے خدایا مجھے ان بچوں سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت کر اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کر۔کئی دفعہ ایسا ہو تا تھا کہ آپ نماز میں ہوتے تو حسن آپ سے لپٹ جاتے۔رکوع میں ہوتے تو آپ کی ٹانگوں میں سے راستہ بنا کر نکل جاتے۔بعض اوقات جب صحابہ انہیں روکتے تو آپ صحابہ کو منع فرما دیتے کہ رو کو نہیں۔دراصل چونکہ ان کا لپٹنا آپ کی توجہ کو منتشر نہیں کرتا تھا۔اس لئے آپ ان کی معصوم محبت کے طفلانہ مظاہرہ میں مزاحم نہیں ہونا چاہتے تھے۔امام حسن کے متعلق ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میرا یہ بچہ سید یعنی سردار ہے اور ایک وقت آئے گا کہ خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔چنانچہ اپنے وقت پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔“ (سیرت خاتم النبیین، صفحه ۵۴۲)