صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 321 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 321

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۲۱ ۹۲ - كتاب الفتن خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ قَالَ حَدَّثَنَا بن عباس) کے پاس لے چلیں تاکہ میں اُن کو الْحَسَنُ قَالَ لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ نصیحت کروں۔تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ابن عَلِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مُعَاوِيَةَ شبرمه ابن موسیٰ سے متعلق ڈرے اور ان کو نہیں بِالْكَتَائِبِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لے گئے۔ابو موسیٰ نے کہا۔حسن (بصری) نے ہم لِمُعَاوِيَةَ أَرَى كَتِيبَةً لَا تُوَلّي حَتَّى سے بیان کیا کہا: جب حضرت حسن بن علی فوجیں تُدْبِرَ أُخْرَاهَا قَالَ مُعَاوِيَةُ مَنْ لِدَرَارِي لے کر معاویہ کی طرف چلے تو حضرت عمرو بن الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ عاص نے معاویہ سے کہا: میں تو ایسی فوج دیکھتا بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ہوں کہ جو اس وقت تک پیٹھ پھیر نے کی نہیں نَلْقَاهُ فَتَقُولُ لَهُ الصُّلْحَ قَالَ الْحَسَنُ جب تک کہ اس کے مقابل کی دوسری فوج پیٹھ نہ پھیر دے۔حضرت معاویہ نے کہا: ان مسلمانوں کی اولاد کا کون رہے گا؟ تو حضرت عمرو نے کہا: وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ جَاءَ میں۔اس وقت حضرت عبد اللہ بن عامر اور حضرت الْحَسَنُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عبد الرحمن بن سمرہ نے کہا ہم حضرت حسن سے ملتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ ہیں اور اُن کو صلح کے لئے کہتے ہیں۔حسن (بصری) أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِتَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نے کہا: میں نے حضرت ابو بکرہ سے سنا کہتے تھے: اسی اثنا میں کہ نبی صلی ا لم تقریر کر رہے تھے کہ نبی الم حسن آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اُمید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے۔أطرافه : ٢٧٠٤، ٣٦٢٩، ٣٧٤٦۔۷۱۱۰: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ 2110: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عَمْرُو (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا عمرو أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِي أَنَّ حَرْمَلَةَ بن دینار) نے کہا: محمد بن علی نے مجھے بتایا کہ حرملہ مَوْلَى أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ عَمْرُو وَقَدْ جو حضرت اسامہ کے غلام تھے ، نے انہیں خبر دی۔