صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 320
صحیح البخاری جلد ۱۶ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ۔۳۲۰ ۹۲ - كتاب الفتن کو پہنچتا ہے جو بھی ان میں ہوتے ہیں پھر وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جاتے ہیں۔شرح : إِذَا أَنْزَلَ اللهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا: جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے۔امام بخاری ابواب کی ترتیب سے مضامین کی گتھیاں سلجھاتے ہیں۔فتنوں کے متعلق ابواب اور ان کے ذیل میں آنے والی روایات سے جن میں صحابہ کی باہمی جنگوں کا ذکر ہے۔صحابہ کے متعلق انسانی ذہن شبہات میں مبتلا ہوتا ہے کہ صحابہ کی ان باہمی جنگوں میں ایک دوسرے کو قتل کرنے والے القاتل والمقتول فی النار کے مصداق کیا دونوں طرف کے قاتل اور مقتول اپنے انجام کے لحاظ سے جہنمی ہیں۔(نعوذ باللہ) امام بخاری نے اس باب سے اس شبہ کا ازالہ کیا ہے اور صحابہ کے اوپر سے اس الزام کو نہایت حکمت سے دور کیا ہے اور بتایا ہے کہ صحابہ تو خلافت کے قیام اور خلیفہ راشد حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی نیت سے یہ جنگیں لڑ رہے تھے۔چونکہ نیت نیک تھی اور قیام خلافت اور استحکام خلافت کا عظیم مقصد ان کے پیش نظر تھا اس لیے ان کی اس جہاد میں ہلاکت انہیں جہنمی نہیں بلکہ شہید کا درجہ دیتی ہے۔مگر وہ مفسد اور شر پسند عناصر جو خلافت کو ختم کرنے اور خلفاء کو شہید کر کے ان کے مقدس خون سے ہولی کھیلنے والے تھے وہ اپنے بد انجام کو پہنچیں گے اور جہنم کی سزا کو پائیں گے۔زیر باب روایت میں اسی عذ ابا کا ذکر ہے جس کا شکار فتنہ پردازان جنگوں میں بھی ہوئے اور آخرت میں بھی ہوں گے اور صحابہ کا انجام ان کے حسن نیت ، اخلاص، ایمان اور قیام خلافت و استحکام خلافت کے لیے جہاد میں شریک ہو کر شہداء کے منعم علیہ گروہ جیسا ہو گا۔باب ۲۰ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِقٍ إِنَّ ابْنِي هَذَا لَسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن بن علی کے متعلق فرمانا: میرا یہ بیٹا تو سر دار ہے اور اُمید ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے ۷۱۰۹: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ 109 علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔اسرائیل ابو موسیٰ نے أَبُو مُوسَى وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ جَاءَ إِلَى ہم سے بیان کیا اور میں ان سے کوفہ میں ملا تھا وہ ابْنِ شُبْرُمَةَ فَقَالَ أَدْخِلْنِي عَلَى ابن شبرمہ کے پاس آئے اور اُن سے کہنے لگے: فَأَعِظَهُ فَكَأَنَّ عِيسَى ابْنَ شُبْرُمَةَ مجھے عیسی بن موسیٰ بن محمد بن علی بن عبد اللہ