صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 319
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۳۱۹ ۹۲ - كتاب الفتن نے ان کے پیچھے سے جاکر اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کو شہید کر دیا۔حضرت طلحہ عین میدان جنگ میں ان مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔جب جنگ تیز ہو گئی تو یہ دیکھ کر کہ اس وقت تک جنگ ختم نہ ہو گی جب تک حضرت عائشہ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے۔بعض لوگوں نے آپ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے اور ہو دج اتار کر زمین پر رکھ دیا تب کہیں جا کر جنگ ختم ہوئی۔اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علی کا چہرہ مارے رنج کے سرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا۔جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہ کی نعش ملی تو حضرت علی نے سخت افسوس کیا۔ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہ کا ہر گز کوئی دخل نہ تھا بلکہ یہ شرارت بھی قاتلان عثمان کی ہی تھی اور یہ کہ طلحہ اور زبیر حضرت علی کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علی کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے۔چنانچہ حضرت علی نے ان کے قاتلوں پر لعنت بھی کی۔“ انوار خلافت ، انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۱۹۸ تا ۲۰۱) باب ۱۹: إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے ۷۱۰۸: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ۷۱۰۸: عبد اللہ بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَن عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔یونس نے الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ہمیں خبر دی۔یونس نے زہری سے روایت کی کہ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ حمزه بن عبد اللہ بن عمر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْزَلَ اللهُ بِقَوْمٍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب اُن لوگوں