صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 318
۹۲ - كتاب الفتن صحیح البخاری جلد ۱۹ ۳۱۸ منصوب حضرت عثمان کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں۔پھر حضرت علی نے حضرت زبیر سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم ! تو علی سے جنگ کرے گا اور تو ظالم ہو گا۔یہ سن کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے ہر گز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہو گی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی۔اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا اور جو ان کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علی کے لشکر پر شب خون مار دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک تھا۔جب جنگ شروع ہو گئی تو حضرت علی نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہ کو اطلاع دے۔شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی اس فتنہ کو دور کر دے۔چنانچہ حضرت عائشہ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا۔مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر الٹی پڑنے لگی۔حضرت عائشہ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کیے۔حضرت عائشہ نے زور زور سے پکارنا شروع کیا کہ اے لوگو ! جنگ کو ترک کرو اور خدا اور یوم حساب کو یاد کرو لیکن مفسد باز نہ آئے اور برابر آپ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے۔چونکہ اہل بصرہ اس لشکر کے ساتھ تھے جو حضرت عائشہ کے ارد گرد جمع ہوا تھا ان کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور أتم المومنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلواریں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے اور اب یہ حال ہو گیا کہ حضرت عائشہ کا اونٹ جنگ کا مرکز بن گیا۔صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے اردگرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہونا شروع ہوا لیکن اونٹ کی باگ انہوں نے نہ چھوڑی۔حضرت زبیر تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقی