صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 317
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۱۷ ۹۲ - كتاب الفتن اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ تو فساد ہے۔اس وقت ملک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہز ار اس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے اور ان کا مقابلہ کریں گے تو اور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے ملک کو اتحاد کی رسی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزادی جائے ورنہ اس بد امنی میں کسی کو سزا دینا ملک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔یہ بات سن کر انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علی کا یہی عندیہ ہے تو وہ آجائیں، ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔اس پر اس شخص نے حضرت علی کو اطلاع دی اور طرفین کے قائمقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہو گیا کہ جنگ کرنا درست نہیں صلح ہونی چاہئے۔جب یہ خبر سبائیوں کو (یعنی جو عبد اللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمان تھے) پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لیے اکٹھی ہوئی۔انہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لیے سخت مضر ہو گی کیونکہ اسی وقت تک ہم حضرت عثمان کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔اگر صلح ہو گئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکانہ کہیں نہیں۔اس لیے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔اتنے میں حضرت علی بھی پہنچ گئے اور آپ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپ کی اور حضرت زبیر کی ملاقات ہوئی۔وقت ملاقات حضرت علی نے فرمایا کہ آپ نے میرے لڑنے کے لیے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے ؟ آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکا ہیوں سے کی تھی۔کیا میں آپ لوگوں کا بھائی نہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا۔اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی۔جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے ؟ اس پر حضرت طلحہ نے کہا، وہ بھی حضرت زبیر کے ساتھ تھے کہا کہ آپ نے حضرت عثمان کے قتل پر لوگوں کو اکسایا ہے۔حضرت علی نے فرمایا کہ میں