صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 316
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۹۲ - كتاب الفتن عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کریں۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لیے طلب کیا۔حضرت طلحہ اور زبیر نے حضرت علی کی بیعت اس شرط پر کر لی تھی کہ وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے۔انہوں نے جلدی کے جو معنی سمجھے تھے وہ حضرت علی کے نزدیک خلاف مصلحت تھی۔ان کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے کیونکہ اول مقدم اسلام کی حفاظت ہے۔قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی ہرج نہیں۔اسی طرح قاتلوں کی تعیین میں بھی اختلاف تھا۔جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علی کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علی کو بالطبع شبہ نہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں، دوسرے لوگ ان پر شبہ کرتے تھے اس اختلاف کی وجہ سے طلحہ اور زبیر نے یہ سمجھا کہ حضرت علی اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔چونکہ انہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علی نے پوری نہ کی تھی اس لیے وہ شرعاً اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔جب حضرت عائشہ کا اعلان ان کو پہنچا تو وہ بھی ان کے ساتھ جاملے اور سب مل کر بصرہ کی طرف چلے گئے۔بصرہ میں گورنر نے لوگوں کو آپ کے ساتھ ملنے سے باز رکھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طلحہ اور زبیر نے صرف اکراہ سے اور ایک شرط سے مقید کر کے حضرت علی کی بیعت کی ہے تو اکثر لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب حضرت علی کو اس لشکر کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہ اور طلحہ اور زبیر کی طرف بھیجا۔وہ آدمی پہلے حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے۔اس کے بعد اس شخص نے طلحہ اور زبیر" کو بھی بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ بھی اسی لیے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہاں۔اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو