صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 315
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۳۱۵ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں: ۹۲ - كتاب الفتن ” انہی لوگوں کی ایک جماعت نے جو حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھی حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ آپ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کر دیں۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لشکر میں جنگ ہوئی۔جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے۔اس جنگ کے شروع میں ہی حضرت زبیر، حضرت علی کی زبان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی سن کر علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے جنگ نہیں کریں گے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اپنے اجتہاد میں انہوں نے غلطی کی ہے۔دوسری طرف حضرت طلحہ نے بھی اپنی وفات سے پہلے حضرت علی کی بیعت کا اقرار کر لیا۔کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا۔انہوں نے پوچھا تم کس گروہ میں سے ہو ؟ اس نے کہا حضرت علیؓ کے گروہ میں سے۔اس پر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ تیرا ہاتھ علی کا ہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر حضرت علی کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔غرض باقی صحابہ کے اختلاف کا تو جنگ جمل کے وقت ہی فیصلہ ہو گیا مگر حضرت معاویہ کا اختلاف باقی رہا یہاں تک کہ جنگ صفین ہوئی۔“ خلافت راشدہ، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۴۸۶،۴۸۵) حضرت خلیفہ المسیح الثانی مزید فرماتے ہیں کہ " قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لیے دوسروں پر الزام لگاتے تھے۔جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علی نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقع مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپ کے ارد گرد حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے تھے اس لیے ان کو الزام لگانے کا عمدہ موقع حاصل تھا۔چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی اس نے حضرت