صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 9
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔مُوسَى قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ کیا کہ ابو بردہ نے ہمیں بتایا۔ابوبردہ نے حضرت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابو موسی سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: میں نبی رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِنِينَ أَحَدُهُمَا عَنْ نیم کے پاس آیا اور میرے ساتھ اشعری قبیلے يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي وَرَسُولُ کے دو شخص تھے۔ان میں سے ایک میرے دائیں اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ تھا اور دوسرا میرے بائیں۔اور رسول اللہ صلی ا یم اُس وقت مسواک کر رہے تھے۔اُن دونوں نے فَكِلَاهُمَا سَأَلَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى - کسی عہدہ کی درخواست کی۔تو آپ نے فرمایا: أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - قَالَ ابوموسی یا فرمایا: عبد اللہ بن قیس کہتے تھے میں قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا کے ساتھ بھیجا، مجھے ان دونوں نے اس بات سے شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَكَأَنِي آگاہ نہیں کیا جو ان کے دلوں میں تھی اور مجھے یہ أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ معلوم نہیں ہوا کہ یہ دونوں کوئی عہدہ چاہتے ہیں۔قَلَصَتْ، فَقَالَ لَنْ - أَوْ لَا - ( مجھے تو یہ واقعہ ایسا ہی یاد ہے) کہ میں اب بھی نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِن آپ کی مسواک دیکھ رہا ہوں جو آپ کے ہونٹوں اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا کے نیچے اٹھی ہوئی تھی۔آپ نے فرمایا: ہرگز نہیں یا فرمایا: ہم اپنے کام پر اُس کو نہیں مقرر کرتے جو عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ – إِلَى الْيَمَنِ۔ثُمَّ اس کی خواہش رکھتا ہو۔لیکن ابو موسیٰ یا فرمایا: اتَّبَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ عبد اللہ بن قیس ! تم یمن جاؤ۔پھر حضرت معاذ بن أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، قَالَ انْزِلْ فَإِذَا رَجُلٌ جبل اُن کے پیچھے گئے۔جب حضرت معاذ حضرت عِنْدَهُ مُوثَقٌ۔قَالَ مَا هَذَا؟ قَالَ كَانَ ابو موسی کے پاس پہنچے تو انہوں نے اُن کے لئے يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ قَالَ اجْلِسن گدا بچھایا۔حضرت ابو موسی نے کہا: نیچے اتریں۔قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ اور وہ کیا دیکھتے ہیں کہ اُنکے پاس ایک شخص ہے جس وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ کی مشکیں کسی ہوئی ہیں۔حضرت معاذ نے کہا: یہ 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ” النینی“ ہے۔(فتح الباری جزء ۱۲ حاشیہ صفحہ ۳۳۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔