صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 314 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 314

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۱۴ ۹۲ - كتاب الفتن هَاتِ حُلَّتَيْنِ فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا معاملہ میں کر رہے ہو۔حضرت ابو مسعودؓ نے کہا، مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا وَقَالَ رُوحًا اور وہ مالدار تھے۔اے لڑکے! دو نئے جوڑے لاؤ اور اُنہوں نے اُن میں سے ایک حضرت فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ۔طرفه : ۷۱۰۳ ابو موسی کو دیا اور دوسرا حضرت عمار کو اور کہا یہ پہن کر تم جمعہ کے لئے چلو۔مرچ۔یہ باب بلا عنوان ہے اس کا مطلب ہے یہ گذشتہ باب کے ذیل میں اسی مضمون کا تسلسل ہے۔زیر باب روایت ۷۰۹۹ میں حضرت ابو بکر ڈ کے یہ الفاظ نَفَعَنِي اللهُ بِكَلِمَةٍ أَيَّامَ الْجَمَلِ: اللہ نے جنگ جمل کے دنوں میں ایک بات سے مجھے فائدہ دیا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابو بکرہ، حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے میں حضرت عائشہ سے متفق تھے مگر وہ جنگ میں شریک نہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو بنیاد بنا کر جو آپ نے ایرانیوں کے حوالہ سے فرمائی تھی کہ وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپناسربراہ بنا لے۔حضرت ابو بکرہ نے حضرت عائشہ کے ساتھ جنگ میں شرکت مناسب نہ سمجھی اور کنارہ کش رہے۔روایت ۷۱۰۰ میں حضرت عمار بن یاسر کی جو بات بیان کی گئی ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا و آخرت میں زوجہ ہونے کے ناطے عظیم المرتبت ہیں مگر اس عظیم منصب کے باوجود وہ مسلمانوں کی خلیفہ نہیں ہیں جو واجب الاطاعت ہوں۔جبکہ حضرت علی خلیفہ راشد ہیں اس لیے ان کی اطاعت واجب ہے۔حضرت عمار کی گفتگو سے یہ بھی ظاہر ہے کہ باوجود حضرت عائشہ سے نظریاتی اختلاف ہونے کے انہوں نے حضرت عائشہ کے ادب میں کوئی کمی نہیں کی اور مسلمانوں کو بتایا کہ یہ ایک آزمائش ہے مگر ہمیں خلیفہ وقت کا ہی ساتھ دینا چاہیئے۔کوفہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت عثمان کے زمانہ سے حاکم تھے حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت ابومسعود حضرت علی کے حامی تھے مگر دونوں کا موقف تھا کہ جنگ میں حضرت عائشہ اور حضرت علی میں سے کسی کا بھی ساتھ نہ دیا جائے جبکہ حضرت عمار حضرت علیؓ کے حق میں انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔شارح بخاری ابن بطال نے لکھا ہے کہ یہ اجتماع ( ان صحابہ کی باہمی ملاقات) حضرت ابو مسعود انصاری کے گھر میں ہوئی وہ صاحب حیثیت اور مال دار آدمی تھے اس لیے انہوں نے حضرت عمار اور حضرت ابو موسیٰ کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کا دیا۔اور پھر تینوں مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لیے گئے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴، صفحہ ۲۰۶) اس سے معلوم ہوتا ہے صحابہ ان نظریاتی اختلافات کے باوجود آپس میں محبت کرنے والے اور اس آیت کریمہ کے پیکر تھے : وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غل اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقبِلِينَ (الحجر: (۴۸) اور ان کے سینوں میں جو کینہ (وغیرہ) بھی ہو گا اسے ہم نکال دیں گے وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے اور) تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے ( بیٹھے ) ہوں گے۔