صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 310 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 310

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۱۰ ۹۲ - كتاب الفتن وجہ سے دین اسلام کا سیکھنا اس کے لیے ویسا آسان نہ تھا جیسا کہ عربوں کے لیے اور جو لوگ عربی جانتے بھی تھے ، وہ ایرانیوں اور شامیوں سے میل ملاپ کی وجہ سے صدیوں سے ان گندے خیالات کا شکار رہے تھے جو اس وقت کے تمدن کا لازمی نتیجہ تھے۔علاوہ ازیں ایرانیوں اور مسیحیوں سے جنگوں کی وجہ سے اکثر صحابہ اور ان کے شاگردوں کی تمام طاقتیں دشمن کے حملوں کے رڈ کرنے میں صرف ہو رہی تھیں۔اس ایک طرف توجہ کا بیرونی دشمنوں کی طرف مشغول ہونا، دوسری طرف اکثر نو مسلموں کا عربی زبان سے ناواقف ہونا یا عجمی خیالات سے متاثر ہو نادو عظیم الشان سبب تھے اس امر کے کہ اس وقت کے اکثر نو مسلم دین سے کماحقہ واقف نہ ہو سکے۔حضرت عمرؓ کے وقت میں چونکہ جنگوں کا سلسلہ بہت بڑے پیمانے پر جاری تھا اور ہر وقت دشمن کا خطرہ لگارہتا تھا لوگوں کو دوسری باتوں کے سوچنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا اور پھر دشمن کے بالمقابل پڑے ہوئے ہونے کے باعث طبعا مذ ہبی جوش بار بار رو نما ہو تا تھا جو مذہبی تعلیم کی کمزوری پر پردہ ڈالے رکھتا تھا۔حضرت عثمان کے ابتدائی عہد میں بھی یہی حال رہا۔کچھ جنگیں بھی ہوتی رہیں اور کچھ پچھلا اثر لوگوں کے دلوں میں باقی رہا۔جب کسی قدر امن ہوا اور پچھلے جوش کا اثر بھی کم ہو ا تب اس مذہبی کمزوری نے اپنا رنگ دکھایا اور دشمنانِ اسلام نے بھی اس موقع کو غنیمت سمجھا اور شرارت پر آمادہ ہو گئے۔غرض یہ فتنہ حضرت عثمان کے کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ حالات کسی خلیفہ کے وقت میں بھی پیدا ہو جاتے ، فتنہ نمودار ہو جاتا۔اور حضرت عثمان کا صرف اس قدر قصور ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔میں حیران ہوں کہ کس طرح بعض لوگ ان فسادات کو حضرت عثمان کی کسی کمزوری کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔حالانکہ حضرت عمر جن کو حضرت عثمان کی خلافت کا خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا، انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس فساد کے بیج کو معلوم کر لیا تھا۔“ ( اسلام میں اختلافات کا آغاز، انوار العلوم جلد ۴ صفحہ ۲۶۱،۲۶۰)