صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 309
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۰۹ ۹۲ - كتاب الفتن غرباء کی فرسٹریشن کو دور کیا جائے تو معاشرہ نقض امن سے بچ سکتا ہے۔مگر حضرت عمرؓ اس بڑے اور خطرناک فتنہ کی بات کر رہے تھے جس میں عرب قوم کا گر فتار بلا ہونا مقدر تھا اور یہ وہی فتنہ ہے جس کا ظہور حضرت عمرہ کی شہادت کے وقت ہوا، اور پھر حضرت عثمان کی خلافت کے ایام میں اور پھر اس کے بعد نہایت ہیبت ناک صورت اختیار کرتا چلا گیا۔حضرت عمر کی شہادت سے جب وہ بند دروازہ ٹوٹ گیا تو یہ فتنے دریا کی موجوں کی طرح ہر در پہر آنے لگے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے زمانہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” ایران وشام اور مصر کی فتوحات کے بعد اسلام اور دیگر مذاہب کے میل و ملاپ سے جو فتوحات روحانی اسلام کو حاصل ہوئیں، وہی اس کے انتظام سیاسی کے اختلال کا باعث ہو گئیں۔کروڑوں کروڑ آدمی اسلام کے اندر داخل ہوئے اور اس کی شاندار تعلیم کو دیکھ کر ایسے فدائی ہوئے کہ اس کے لیے جانیں دینے کے لیے تیار ہو گئے۔مگر اس قدر تعداد نو مسلموں کی بڑھ گئی کہ ان کی تعلیم کا کوئی ایسا انتظام نہ ہو سکا جو طمانیت بخش ہوتا۔۔۔جب کوئی فتنہ پیدا ہونا ہوتا ہے تو اس کے اسباب بھی غیر معمولی طور پر جمع ہونے لگتے ہیں۔ادھر تو بعض حاسد طبائع میں صحابہ کے خلاف جوش پیدا ہونا شروع ہوا۔اُدھر وہ اسلامی جوش جو ابتداء اہر ایک مذہب تبدیل کرنے والے کے دل میں ہوتا ہے، ان نو مسلموں کے دلوں سے کم ہونے لگا۔۔۔اسلام کو قبول کرتے ہی انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ وہ سب کچھ سیکھ گئے ہیں۔جوش اسلام کے کم ہوتے ہی وہ تصرف جو اُن کے دلوں پر اسلام کو تھا، کم ہو گیا۔اور وہ پھر اُن معاصی میں خوشی محسوس کرنے لگے جس میں وہ اسلام لانے سے پہلے مبتلاء تھے۔ان کے جرائم پر اُن کو سزا ملی تو بجائے اصلاح کے سزا دینے والوں کی تخریب کرنے کے درپے ہوئے اور آخر اتحاد اسلامی میں ایک بہت بڑار خنہ پیدا کرنے کا موجب ثابت ہوئے۔“ اسلام میں اختلافات کا آغاز، انوار العلوم جلد ۴ صفحه ۲۵۸ تا۲۶۳) ان فتنوں کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بات یہ ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے۔ان نو مسلموں میں اکثر حصہ وہی تھا جو عربی زبان سے ناواقف تھا اور اس