صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 308
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۰۸ ۹۲ - كتاب الفتن عَنْ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ نے سلیمان (اعمش) سے روایت کی کہ میں نے قِيلَ لِأُسَامَةَ أَلَا تُكَلِّمُ هَذَا؟ قَالَ قَدْ ابو وائل سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ حضرت اسامہ كَلَّمْتُهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا أَكُونُ بن زید) سے کہا گیا۔ کیا آپ ان سے گفتگو أَوَّلَ مَنْ يَفْتَحْهُ وَمَا أَنَا بِالَّذِي أَقُولُ نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا: میں ان سے گفتگو کر چکا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا دروازہ کھولوں لِرَجُلٍ - بَعْدَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرًا عَلَى کہ جس کا کھولنے والا میں ہی پہلا ہوں اور میں ایسا رَجُلَيْنِ - أَنْتَ خَيْرٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ شخص بھی نہیں کہ میں کسی آدمی سے متعلق کہ جو دو مِنْ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شخصوں پر حاکم ہو چکا ہو یہ کہوں کہ تم سب سے يَقُولُ يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ اچھے ہو جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَمَا يَطْحَنُ الْحِمَارُ فرماتے سن چکا ہوں کہ ایک آدمی کو لا کر آگ بِرَحَاهُ فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس میں اس طرح چکی أَيْ فُلَانُ أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ چلائے گا جیسے گدھا اپنی چھی چلاتا ہے اور دوزخی اس کے ارد گرد اکٹھے ہوں گے اور پوچھیں گے۔ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ إِنِّي كُنْتُ ارے فلاں ! کیا تم بھلی بات کا حکم نہیں کیا کرتے آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ وَأَنْهَى عَنِ تھے اور بری بات سے منع نہیں کیا کرتے تھے ؟ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ۔ تو وہ کہے گا: میں بھلائی کا حکم دیا کرتا تھا اور خود طرفه : ٣٢٦٧ - اسے نہیں کیا کرتا تھا اور برائی سے روکا کرتا تھا اور خود اسے کرتا تھا۔ تشريح الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ : وہ فتنہ جو سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حضرت حذیفہ نے جن فتنوں کا پہلے ذکر کیا وہ انفرادی نوعیت کے ہیں جن سے ایک انسان اپنی عملی زندگی میں گذرتا ہے۔ صدقہ و خیرات ، عبادت کے قیام اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے ان فتنوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صدقات جہاں رڈ بلا کا باعث بنتے ہیں وہاں معاشرے کے کمزور طبقات کو اوپر اٹھانے کا موجب ہوتے ہیں۔ صدقات جس طرح افراد کی اصلاح نفس اور بہبود کا موجب ہیں، اسی طرح قوم میں اقتصادی نشیب و فراز کو برابر کرنے کا موجب بھی ہیں۔ معاشی بد حالی طرح طرح کی بے چینیاں پیدا کرتی ہے صدقہ و خیرات کے ذریعہ