صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 8
صحیح البخاری جلد ۱۶ A ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَ مَنْ يَرْتَدِدُ عہد پر ثابت قدم رہے۔ تمہارا رب اس کے بعد مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرُ غفور رحیم ہے ( اور فرمایا:) وہ تم سے ہمیشہ لڑتے فَأُولَيكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ رہیں گے جب تک کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں الْآخِرَةِ وَ أُولَئِكَ أَصْحُبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا تمہارے دین سے پھیر نہ دیں اور تم میں ۔ رنہ سے جو خُلِدُونَ (البقرة: ۲۱۸)۔ اپنے دین سے پھر جائے اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ کافر ہو تو یہ ایسے لوگ ہیں کہ اُن کے اعمال دنیا و آخرت میں رائیگاں گئے اور یہی لوگ دوزخ کے مستحق ہیں وہ اس میں ایک لمبے زمانہ تک رہیں گے۔ ٦٩٢٢ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ ۶۹۲۲ : ابو نعمان محمد بن فضل (سدوسی) نے ہم بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے روایت کی۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ فَبَلَغَ اُنہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا، زندیق لائے گئے تو انہوں نے اُن کو جلا دیا تو یہ خبر لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عباس کو پہنچی۔ انہوں نے کہا: اگر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللهِ میں ہوتا تو ان کو بھ نہ جلواتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ اللہ کی سزا جیسی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ۔ طرفه: ۳۰۱۷ کسی کو سزانہ دو اور میں اُن کو مروا ڈالتا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے دین کو تبدیل کر دے اس کو مار ڈالو۔ ٦٩٢٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۹۲۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچی (قطان) يَحْيَى عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قرہ بن خالد سے روایت حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنْ کی۔ اُنہوں نے کہا: حمید بن ہلال نے مجھ سے بیان