صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 304
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۰۴ ۹۲ - كتاب الفتن کہ مسیح بھی اسی ملک میں ظہور کرے اور جیسا کہ سب سے اوّل آدم کے خروج کے بعد اسی ملک پر نظر رحم ہوئی تھی ایسا ہی آخری زمانہ میں بھی اسی ملک پر نظر رحم ہو۔“ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳، صفحه ۴۱۹) باب ۱۷ : الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ وہ فتنہ جو سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ خَلَفِ بْنِ ابن عیینہ نے خلف بن حوشب سے نقل کیا۔ فتنوں حَوْشَبٍ كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَتَمَثَّلُوا کے وقت لوگ یہ اشعار پڑھنے پسند کرتے تھے۔ بِهَذِهِ الْأَبْيَاتِ عِنْدَ الْفِتَنِ قَالَ امْرُؤُ امراء القیس نے کہا: جنگ پہلے پہل جو ہوتی ہے تو الْقَيْسِ: ایک ایسی نوجوان عورت کی طرح ہوتی ہے جو ہر الْحَرْبُ أَوَّلُ مَا تَكُونُ فَتِيَّةً ایک نادان کو فریفتہ کرنے کے لئے اپنی زینت تَسْعَى بِزِينَتِهَا لِكُلِّ جَهُولِ کے ذریعہ سے کوشش کرتی ہے۔ یہاں؟ کرتی ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ شعلہ زن ہوتی ہے اور جب اس کا ایندھن بھڑک حَتَّى إِذَا اشْتَعَلَتْ وَشَبَّ ضِرَامُهَا اُٹھتا ہے اور وہ واپس لوٹتی ہے تو وہ (مثل) بوڑھی وَلَّتْ عَجُوزًا غَيْرَ ذَاتِ حَلِيلِ (عورت) لوٹتی ہے جس کا کوئی خاوند نہیں ہوتا، شَمْطَاءَ يُنْكَرُ لَوْنُهَا وَتَغَيَّرَتْ سفید سر، رنگ اُڑا ہوا اور بگڑی شکل، سونگھنے میں مَكْرُوهَةً لِلشَّمِّ وَالتَّقْبِيل ایسی گھناؤنی کے نہ اُسے سونگھا جائے اور نہ بوسہ دیا جائے۔ ٧٠٩٦: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۷۰۹۶: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے حَدَّثَنَا شَقِيقٌ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ بیان کیا۔ شقیق نے ہمیں بتایا کہ میں نے حضرت بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ قَالَ حذیفہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے : ہم حضرت عمرؓ کے أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ پاس بیٹھے ہوئے تھے جب اُنہوں نے پوچھا: فتنوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ فِتْنَةُ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات تم میں سے