صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 305 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 305

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۰۵ ۹۲ - كتاب الفتن الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ کے یاد ہے؟ حضرت حذیفہ نے کہا کہ وہ فتنہ جو يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ آدمی کو اس کے گھر والوں اور اس کے مال اور اس کی اولاد اور اس کے پڑوسی کی وجہ سے ہوتا ا بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ۔قَالَ بَلْ يُكْسَرُ۔قَالَ عُمَرُ إِذًا لَا يُغْلَقُ أَبَدًا قُلْتُ أَجَلْ قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ أَكَانَ ہے اس فتنے کا کفارہ نماز اور صدقہ اور بھلی بات لَيْسَ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ وَلَكِنِ الَّتِي کہنا اور بری بات سے منع کرنا ہے۔حضرت عمرؓ نے تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ فَقَالَ لَيْسَ فرمایا: اس کے متعلق میں تم سے نہیں پوچھتا بلکہ اس عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فتنہ کے متعلق جو سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ مارے گا۔حضرت حذیفہ نے کہا: امیر المؤمنین! عُمَرُ أَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟ قَالَ لَا آپ کو اس فتنہ سے کوئی خدشہ نہیں۔آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا ؟ حضرت حذیفہ نے کہا: نہیں بلکہ توڑا جائے گا۔عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ كَـ كَمَا حضرت عمرؓ نے فرمایا: تب کبھی بند نہیں کیا جائے گا؟ يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً وَذَلِكَ أَنِّي میں نے کہا: ہاں۔(شقیق کہتے تھے ) ہم نے حضرت حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ فَهِبْنَا حذیفہ سے پوچھا: کیا حضرت عمرؓ اس دروازے کو أَنْ نَّسْأَلَهُ مَن الْبَابُ فَأَمَرْنَا مَسْرُوفًا جانتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔جیسے کہ وہ یہ جانتے ہوں کہ کل سے پہلے رات ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے ان سے ایک ایسی حدیث بیان کی جو غلط نہ تھی۔(شقیق کہتے تھے: ) ہم حضرت حذیفہ سے یہ پوچھنے میں ہچکچائے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ اس لئے ہم نے مسروق سے کہا اور اُنہوں نے اُن سے پوچھا: وہ دروازہ کون ہے؟ حضرت حذیفہ نے کہا: حضرت عمرؓ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ عُمَرُ۔أطرافه : ٥٢٥، ١٤٣٥، ١٨٩٥، ٣٥٨٦۔