صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 303 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 303

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۰۳ ۹۲ - كتاب الفتن یہ علاقہ ہمیشہ فتنوں کی سرزمین رہا ہے ۔ فتنوں کے لیے یہ زمین زرخیز ہے۔ حضرت نوح کے دور میں یہی علاقہ ثبت پرستی کی آماجگاہ بنا۔ سواع، یغوث اور نسر نامی بت اسی علاقے میں نسب کیے گئے۔ حضرت ابراہیم کے خلاف آگ کا جو الاؤ روشن کیا گیا وہ بھی عراق میں ہی تھا۔ حضرت عثمان کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے بھی عراقی تھے۔ خوارج کا فتنہ بھی عراق سے پیدا ہوا، حضرت امام حسین کو شہید کرنے والے بھی عراقی تھے، تاتاریوں کا فتنہ بھی انہی کی وجہ سے شروع ہوا۔ جنہوں نے مسلمانوں کا علمی سرمایہ دریا برد کیا۔ دجال کا ظہور بھی مشرق سے ہوا۔ روایت نمبر ۷۰۹۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے ان الفاظ اللهُمَّ بَارِك لَنَا فِي شَأْمِنَا اللَّهُمَّ بَارِكَ لَنَا فِي يَمَنِنَا کے آگے ذکر ہے قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَفِي نَجْدِنَا قَالَ فِي الثَّالِثَةِ هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے شام میں برکت دے، اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے یمن میں برکت دے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اور ہمارے مسجد میں بھی ؟ میں سمجھتا ہوں آپ نے تیسری بار پر فرمایا: وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے ۔ مدینہ سے مشرقی علاقہ مجد کہلاتا ہے۔ مسجد کے معنی ہیں بلند سطح زمین جبکہ نشیبی علاقے کو غور کہتے ہیں۔ مجد میں کو فہ ، بابل شامل ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” خدائے تعالیٰ نے اپنے نبی کریم کی معرفت فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسا ہی تمہارا حال ہو گا۔ تمہاری مذہبی عداوتیں اپنے ہی بھائیوں سے انتہاء تک پہنچ جائیں گے۔ بغض اور حسد اور کینہ سے بھر جاؤ گے۔ اس شامت سے نہ تمہاری دنیا کی حالت اچھی رہے گی نہ دین کی نہ انسانی اخلاق کی نہ خدا ترسی باقی رہے گی نہ حق شناسی۔ اور پورے وحشی اور ظالم اور جاہل ہو جاؤ گے اور وہ علم جو دلوں پر نیک اثر ڈالتا ہے تم میں باقی نہیں رہے گا۔ اور یہ تمام بے دینی اور ناخدا ترسی اور بے مہری پہلے ممالک مشرقیہ میں ہی پیدا ہو گی اور دجال اور یا جوج ماجوج انہیں ممالک سے خروج کریں گے یعنی اپنی قوت اور طاقت کے ساتھ دکھلائی دیں گے۔ ممالک مشرقیہ سے مراد ملک فارس اور مسجد اور ملک ہندوستان ہے۔ کیونکہ یہ سب ممالک زمین حجاز سے مشرق کی طرف ہی واقع ہیں اور ضرور تھا کہ حسب پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفر اور کافری انہیں جگہوں سے قوت کے ساتھ اپنا جلوہ دکھاوے انہیں ممالک میں سے کسی جگہ دجال خروج کرے اور انہیں میں مسیح بھی نازل ہو کیونکہ جو جگہ محل کفر اور فتن ہو جائے وہی جگہ صلاح اور ایمان کی بنا ڈالنے کے لئے مقرر ہونی چاہیے سو ان ممالک مشرقیہ میں سے ہند جیسا زیادہ تر محل کفر اور فتن اور نفاق اور بغض اور کینہ ہو گیا ہے۔ ایسا ہی وہ زیادہ تر اس بات کے لائق تھا