صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 298
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۲۹۸ ۹۲ - كتاب الفتن عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيْنْتُ لَكُمْ فَجَعَلْتُ دیا۔یہ دیکھ کر ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ منبر پر چڑھے اور فرمایا: جس بات کے متعلق تم رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مجھ سے پوچھو گے ضرور ہی میں تمہیں کھول کر كَانَ إِذَا لَاحَى يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ بتاؤں گا۔میں دائیں اور بائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھتا فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ ہوں کہ ہر ایک شخص اپنا سر اپنے کپڑے میں أَبُوكَ حُذَافَةً ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ ڈالے ہوئے رو رہا ہے۔اتنے میں ایک شخص اُٹھا جب اس کا کسی سے جھگڑا ہوتا تو اس کو اس کے رَضِينَا بِاللهِ رَبَّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءٍ الْفِتَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔پھر حضرت وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِ عمر اٹھے اور کہنے لگے : ہم خوش ہیں کہ اللہ ہمارا الْجَنَّةُ كَالْيَوْمِ قَطُّ إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي رب ہے اور اسلام ہمارا دین اور محمد سہمارے رسول وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ الْحَائِطِ ہیں۔ہم فتنوں کے بد انجام سے اللہ کی پناہ مانگتے قَالَ قَتَادَةُ يُذْكَرُ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خیر اور هَذِهِ الْآيَةِ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا شر میں آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا کیونکہ میرے عَنْ اشْيَاء إِن تُبدَ لَكُمْ تَسوكم سامنے جنت اور آگ متمثل کی گئی یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو اس دیوار کے ورے دیکھا۔قتادہ نے کہا: یہ حدیث اس آیت کی تشریح کرتے وقت بیان کی جاتی ہے۔اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو ایسی باتوں کے متعلق سوال مت کرو کہ اگر تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری (المائدة: ١٠٢) معلوم ہوں۔أطرافه : ٩٣، ٧٤٩،٥٤٠ ٤٦٢١ ٦٣٦٢ ،٦٤٦٨، ٦٤٨٦، ۷۰۹۰، ۷۰۹۱، ۷۲۹٤، ۷۲۹۰- ٧٠٩٠: وَقَالَ عَبَّاس النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا ۷۰۹۰: اور عباس نرسی نے ہم سے کہا۔ہم سے