صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 299 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 299

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۹ ۹۲ - كتاب الفتن يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا يزيد بن زریع نے بیان کیا۔ سعید ( بن ابی عروبہ ) قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔ بِهَذَا، وَقَالَ انس نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔ كُلُّ رَجُلٍ لَافًا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي اور حضرت انس نے یہی حدیث بیان کی۔ اور وَقَالَ عَائِدًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ أَوْ حضرت انس نے کہا: ہر ایک شخص اپنا سر اپنے قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سَوْأَى الْفِتَنِ۔ کپڑے میں لیٹے ہوئے رورہا تھا اور حضرت عمرؓ نے کہا: فتنوں کے بد انجام سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے، یا یوں کہا: فتنوں کے بد انجام سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ أطرافه : ٩٣ ، ٥٤٠ ، ٧٤٩، ٤٦٢١ ، ٦٣٦٢ ، ٦٤٦٨، ٦٤٨٦ ، ۷۰٨٩، ۷۰۹۱، ۷۲۹۴، -٧٢٩٥ ۷۰۹۱: وَقَالَ لِي خَلِيفَةً حَدَّثَنَا ۷۰۹۱: اور خلیفہ نے مجھ سے کہا۔ یزید بن زریع يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَمُعْتَمِرٌ نے ہمیں بتایا کہ سعید اور معتمر نے اپنے باپ سے عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قتاده سے مروی ہے کہ حضرت انس نے نبی صلی اللہ وَقَالَ عَائِدًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ۔ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے انہیں یہی بتایا اور کہا کہ فتنوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے۔ أطرافه : ٩٣ ، ٥٤٠ ٧٤٩، ٤٦٢١، ٦٣٦٢ ، ٦٤٦٨، ٦٤٨٦، ۷۰۸۹، ۷۰۹۰، ۷۲۹۴، -٧٢٩٥ تشریح : التَّعَوُّذُ مِنَ الْفِتَنِ: فتنوں سے پناہ مانگنا۔ انسان کے ایمان اور اعتقاد کو قائم رکھنے کے لیے ایمانیات پر شرح صدر ہونا ضروری ہے۔ بسا اوقات دل میں ایسے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور ایسے سوالات اُٹھتے ہیں کہ اگر ان کا جواب حاصل نہ کیا جائے تو وہ اندر ہی اندر ایمان کو کمزور کرتے جاتے ہیں۔ اس لیے انبیاء اور خلفاء ہمیشہ مجالس عرفان میں لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے ہیں تاکہ لوگ علم کے ذریعہ ایمان اور عرفان میں ترقی کریں اور اندر ہی اندر دبی ہوئی غلط فہمیاں کسی بڑے بگاڑ کا موجب نہ بن جائیں ۔ منافق اور فتنه پرداز لوگ بھی ایسی باتیں پھیلاتے رہتے ہیں جن سے بے چینیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے لوگوں کا کیتھارسس