صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 297
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۷ ۹۲ - کتاب الفتن اسلام دشمن طاقتوں کے حسد کی آگ کو شعلہ زن کر رہا تھا۔حضرت عمرؓ کا پاک وجود ان طوفانوں کے آگے سر سکندری بنا ہوا تھا۔آر۔آپ کی شہادت سے وہ باب العافیت ٹوٹ گیا اور فتنوں کی لہریں موج در موج آگے بڑھنے لگیں۔بعض صحابہ جن میں حضرت سلمہ بن اکوع بھی تھے ان فتنوں سے بچنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں آبادیوں سے باہر گوشہ نشین ہو گئے۔حضرت سلمہ بن اکوع کی ۷۴ ہجری میں مدینہ میں ۸۰ سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ربذہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے علامہ عینی لکھتے ہیں ربذہ وہ جگہ ہے جسے حضرت عمر نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ بنایا تھا یہ مدینہ سے تین مراحل پر ذات عرق کی جانب ہے۔رَضِيَ (عمدة القاری، جزء ۲۴ صفحه ۱۹۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حُب دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہو جایا کرتا ہے لہذا دنیوی امور میں بہت انہماک اور دنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین ایمان اور آخرت کی پروا ہی نہ رہے۔یہ بھی خطرناک زہر یلا مرض ہے۔یہ تو وہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم کی ایم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ ، درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔پس اگر بحالت مجبوری کوئی احمدی اکیلا ہی ہو تو اسے تنہا ہی نماز گزار لینی چاہیئے اور کوشش اور دعا کرنی چاہیئے کہ خدا اُسے جماعت بنادے۔“ (ملفوظات، جلد ۵ صفحه ۵۲۶) بَابِ ١٥: التَّعَوُّذُ مِنَ الْفِتَنِ فتنوں سے پناہ مانگنا ۷۰۸۹: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :۷۰۸۹ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّی سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ روایت کی۔اُنہوں نے کہا: لوگوں نے نبی صلی اللہ فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم سے سوالات کرنے شروع کئے اور اتنے ذَاتَ يَوْمِ الْمِنْبَرَ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي کئے کہ اُنہوں نے آپ کو پوچھتے پوچھتے تنگ کر