صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 296
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۶ ۹۲ - كتاب الفتن بْنُ عَفَّانَ خَرَجَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ إِلَى کی اجازت دی تھی اور یزید بن ابی عبید سے مروی الرَّبَذَةِ وَتَزَوَّجَ هُنَاكَ امْرَأَةً وَوَلَدَتْ لَهُ ہے۔ اُنہوں نے کہا: جب حضرت عثمان بن عفان أَوْلَادًا فَلَمْ يَزَلْ بِهَا حَتَّى قَبْلَ أَنْ شہید کیے گئے تو حضرت سلمہ بن اکوع ریزہ کی طرف نکل گئے اور وہاں ایک عورت سے نکاح کیا اور اس سے ان کی اولاد ہوئی۔ وہ وہیں رہے اور يَّمُوتَ بِلَيَالٍ نَزَلَ الْمَدِينَةَ۔ وفات سے چند راتیں پہلے مدینہ میں آکر قیام کیا۔ ۷۰۸۸ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۷۰۸۸ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد عبدا الرحمن بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عبد الله بن ابی صعصعہ سے، عبد الرحمن نے اپنے عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوسعید عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمْ يَتْبَعُ بِهَا ہے کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ کے پیچھے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ۔ أطرافه : ۱۹ ، ٣٣۰۰، ٣٦٠٠ ، ٦٤٩٥- مقامات میں پھرے گا۔ فتنوں سے اپنے دین کو بچانے کے لئے بھاگتا ہو گا۔ تشریح : التَّعَرُّبُ فِي الْفِتْنَةِ: فتنے کے وقت بادیہ نشین ہونا۔ امام بخاری ابواب کی ترتیب میں احادیث رسول سے ایک خاص تسلسل کے ساتھ اس امر کو بیان کر رہے ہیں کہ فتنوں کے زمانہ میں اپنا دین بچانے کے لیے فتنوں کی زمین سے ہجرت کرنے اور اپنے ایمان کی خاطر آبادیوں سے دور چلے جانے میں ہی عافیت ہو گی۔ صحابہ کا وہ زمانہ جس میں خلافت راشدہ کا بابرکت نظام موجود تھا۔ خیر القرون کا یہ زمانہ فتنوں کا زمانہ نہیں تھا۔ تاہم منافقین نو مسلموں کے ساتھ مل کر اسلام کے اس مضبوط قلعے میں دراڑیں ڈالنے اور مدینہ کی روحانی فضا کو مکدر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔ اسلامی فتوحات اور ترقیات کا پھیلتا ہوا دائرہ