صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 295
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۵ ۹۲ - کتاب الفتن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کی حالت اور بعد کی حالت کے متعلق فرمایا: صَادَفَعَهُمْ قَوْمًا كَرَوْبٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبيكَةِ الْعِقْيَانِ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵، صفحه ۵۹۱) تو نے انہیں ایسی قوم پایا جو ذلت میں گوبر کی طرح تھی تو نے انہیں خالص سونے کی ڈلیاں بنادیا۔اس اصلاح کے بعد مرور زمانہ سے پیدا ہونے والے بگاڑ کا بھی آپ نے بتایا۔آپ نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ ایک وقت آئے گا لوگ اخلاقی گراوٹ دنیاداری اور جاہ و حشمت کی طلب میں تمام روحانی قدریں کھو بیٹھیں گے اور وہ ایمان جس نے انہیں عزت کے تخت پر بٹھایا تھا وہ اس سے نیچے گر جائیں گے اور ان کی حیثیت چھان بورے کی سی ہو گی جسے پھینک دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا اور اللہ کے نزدیک ان کی حیثیت پر گاہ کے برابر بھی نہیں ہوتی۔جس زمانہ میں امام بخاری یہ احادیث جمع کر رہے تھے۔ایسے لوگ بر سر اقتدار آ رہے تھے جو امانت و دیانت سے و سے خالی مگر اپنے ظاہری کر و فر سے بڑے عقل مند اور دانشور سمجھے جاتے تھے۔ان کی حالت اس آبلے کی سی تھی جس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔حضرت حذیفہ نے اسلام کے عروج و زوال کے بیان کرنے کے ساتھ کمال انصاف سے عیسائیت کی اس خوبی کا ذکر بھی کر دیا کہ ان کا نظام لمبے عرصہ تک بعض اخلاقی قدروں کو قائم رکھنے میں کامیاب رہے گا جو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے إِن كَانَ نَصْرَ انِيَا رَدُهُ عَلَى سَاعِید اگر وہ عیسائی ہو تا تو اس کا حاکم اس کو میرے پاس واپس لوٹا دیتا۔کلیسا کی یہی وہ طاقت ہے جس نے کئی ہزار سال تک عیسائیت کو قائم رکھنے میں مدد دی ہے۔بَابِ ١٤: التَّعَرُّبُ فِي الْفِتْنَةِ فتنے کے وقت بادیہ نشین ہونا ۷۰۸۷: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۷۰۸۷: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ حاتم بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهُ دَخَلَ يزيد بن ابی عبید سے، یزید نے حضرت سلمہ بن عَلَى الْحَجَّاجِ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَع اکوٹ سے روایت کی کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو وہ ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ ؟ قَالَ کہنے لگا: اکوع کے بیٹے ! کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پھر گئے ہو۔(یا) بادیہ نشین ہو گئے ہو۔حضرت وَسَلَّمَ أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ وَعَنْ يَزِيدَ سلمہ بن اکون نے کہا: نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ علیہ وسلم نے مجھے (شہری) آبادی سے باہر رہنے