صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 292
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۲ ۹۲ - كتاب الفتن کی جماعت ہی ہے جو الہی جماعت ہے جو دنیا میں خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچارہی ہے۔اور اگر کوئی اور جماعت، جماعت کہلاتی بھی ہے تو ان کے اور بھی بہت سارے سیاسی مقاصد ہیں۔پس اس عافیت کے حصار کے اندر آگئے ہیں تو پھر اس کے اندر مضبوطی سے قائم رہیں اور اطاعت کرتے رہیں۔ورنہ جیسا کہ فرمایا کہ بھیڑیے ایک ایک کر کے سب کو کھا جائیں گے اور کھا بھی رہے ہیں۔ہمارے سامنے روز نظارے نظر آرہے ہیں۔یہاں ایک اور مسئلہ بھی حل ہو رہا ہے کہ جماعت میں شامل لوگ ہی عامتہ المسلمین ہیں یعنی تعداد کے لحاظ سے زیادتی عامتہ المسلمین نہیں کہلاتی۔پس آپ ہی وہ خوش قسمت ہیں جو جماعت میں شامل ہیں اور عامۃ المسلمین کہلانے کے مستحق ہیں تو اس لئے اپنے آپ کو بھی اگر بچانا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تو مکمل صبر اور وفا سے اطاعت گزار رہیں۔“ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۲۷ اگست ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۶۱۵) بَاب ۱۲ : مَنْ كَرِهَ أَنْ يُكَفِّرَ سَوَادَ الْفِتَنِ وَالظُّلْمِ جس نے فتنہ پردازوں اور ظالموں کی جماعت کو بڑھانا نا پسند کیا ۷۰۸٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ۷۰۸۵: عبد اللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَغَيْرُهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حیوہ وغیرہ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا: ابو الاسود الْأَسْوَدِ وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ نے ہمیں بتایا اور لیث نے بھی ابو الا سود سے نقل کیا، قَالَ قُطِعَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ کہا: مدینہ والوں کے متعلق بھی ایک فوج بھیجنے کا فیصلہ بَعْثُ فَاكْتُتِبْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عِكْرِمَةَ کیا گیا اور میرا نام بھی اس فوج میں لکھا گیا۔پھر میں فَأَخْبَرْتُهُ فَنَهَانِي أَشَدَّ النَّهْيِ ثُمَّ قَالَ عَکرمہ سے ملا اور میں نے اُن کو بتایا۔انہوں نے أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسِ أَنَّ أُنَاسًا مِنَ مجھے سختی سے منع کیا اور کہا: حضرت ابن عباس نے الْمُسْلِمِينَ كَانُوا مَعَ الْمُشْرِكِينَ مجھے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مشرکوں يُكَثِرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى کے ساتھ رہے جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسلم کے مقابل میں مشرکوں کی جمیعت بڑھانے کا