صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 291
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۲۹۱ ۹۲ - کتاب الفتن میں ہر ایک حق بجانب ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ اس کی جماعت ہی وہ جماعت ہے اور اس کا امام ہی وہ امام ہے جس کے ساتھ چھٹنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی۔آج جبکہ امت ۷۲ سے ۷۳ میں بلکہ اس سے بھی آگے تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے ، پس اس امام اور اس جماعت کی تلاش سب سے اہم اور ضروری امر ہے کیونکہ جو حبل اللہ ہے جو عافیت کا حصار ہے جب تک اس کو نہ پکڑیں ان فتنوں سے بچنا ممکن نہیں۔امام کون ہے اور اس کی قائم کر دہ وہ جماعت کون سی ہے ؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ امام وہ ہو گا جسے خدا نے امام بنایا اور جماعت وہ جماعت ہوگی جسے مامور من اللہ نے قائم کیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اس کی ابتدائی اینٹ رکھی ہو اور اسی کے ہاتھ کا لگایا ہو ا پو دا ہو۔آج وہ امام الزمان آچکا جو خد اتعالیٰ کا مبعوث کر دہ وہ موعود امام اور موعود مسیح اور موعود مہدی ہے جس کی خبریں اور علامتیں ۱۴ سو سال پہلے دی گئیں اور ایک ایک کر کے وہ سب نشان پورے ہوئے اور سب علامتیں اس میں دکھائی دیں۔اس کے حق میں آسمان نے چاند سورج کا گرہن لگا کر گواہی دی۔زمین نے زلزلوں طوفانوں ، طاعون اور بے شمار وباؤں کے ذریعہ اس کی صداقت ثابت کی اور تائیدات و نصرت کا نہ ختم ہونے والا جاری سلسلہ ہر روز، روز روشن کی طرح اس کی سچائی ظاہر کر رہا ہے۔وہ ہیں ہمارے امام ہمام سید نا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی موعود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بائی جماعت احمدیہ اور آپ کے بعد قدرت ثانیہ کے مظہر خلفائے سلسلہ ، جنہیں خدا نے خلیفتہ المسیح بنایا اور اپنی تائیدات و نصرت سے ان کا خلیفہ بر حق ہونا ثابت کیا۔آج قدرت ثانیہ کے مظہر حضرت خلیفتہ المسیح الخامس امام جماعت احمد یہ وہ موید من اللہ خلیفہ ہیں جن کی ولادت باسعادت سے ۴۳ سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ائی مَعَكَ يَا مسرور کے الہام میں یہ خوشخبری دی کہ میں اس کے ساتھ ہوں میری تائید و نصرت اس کے شامل حال ہو گی۔اور الہام الہی رانِّی مَعَكَ يَا مسرور ، کے مطابق ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات و نصرت ایسی روز روشن کی طرح ظاہر و باہر ہیں کہ ایک زمانہ اس کا گواہ ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح بکریوں کا دشمن بھیڑیا ہے اور اپنے ریوڑ سے الگ ہو جانے والی بکریوں کو بآسانی شکار کر لیتا ہے اسی طرح شیطان انسان کا بھیڑیا ہے۔اگر جماعت بن کر نہ رہیں یہ ان کو الگ الگ نہایت آسانی سے شکار کر لیتا ہے۔فرمایا اے لوگو ! پگڈنڈیوں پر مت چلنا بلکہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ جماعت اور عامتہ المسلمین کے ساتھ رہو۔تو یہاں فرمایا کہ شیطان سے بچ کر رہنے کا ایک ہی طریق ہے کہ جماعت سے وابستہ ہو جاؤ اور اس زمانے میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام