صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 293
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۳ ۹۲ - كتاب الفتن فَيَأْتِي السَّهْمُ فَيُرْمَى بِهِ فَيُصِيبُ موجب ہو رہے تھے اور تیر آتا، وہ کسی کو لگتا اور أَحَدَهُمْ فَيَقْتُلُهُ أَوْ يَضْرِبُهُ فَيَقْتُلُهُ زخمی کرتا اور اس کو مار ڈالتا یا کوئی اس کو تلوار کی فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى اِنَّ الَّذِينَ تَوَقِّهُمُ ضرب لگاتا اور اُسے مار ڈالتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔جن لوگوں کو ملائکہ نے الْمَلَيكَةُ ظَالِي أَنْفُسِهِمُ۔طرفه : ٤٥٩٦ - (النساء :۹۸) اس حالت میں وفات دی کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔بَاب ١٣ : إِذَا بَقِيَ فِي حُثَالَةٍ مِّنَ النَّاسِ اگر کوئی رڈی لوگوں میں باقی رہ جائے (تو کیا کرے؟) ٧٠٨٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۷۰۸۶: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا۔اعمش زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ قَالَ نے زید بن وہب سے روایت کی کہ حضرت حذیفہ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا علیہ وسلم نے ہمیں دو باتیں بتائیں۔ان میں سے أَنْتَظِرُ الْآخَرَ حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَةَ ایک کو تو میں نے دیکھ لیا اور دوسری کا میں انتظار کر رہا ہوں۔آپ نے ہمیں بتایا کہ امانت لوگوں نَزَلَتْ فِي جَذْرٍ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ کے دلوں کی تہ میں نازل ہوئی۔پھر اُنہوں نے عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ قرآن سے اس کا علم حاصل کیا۔پھر سنت سے السُّنَّةِ وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ يَنَامُ معلوم کیا اور آپ نے اس امانت کے اٹھائے الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ جانے کے متعلق ہمیں بتایا۔فرمایا: آدمی ایک نیند قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ ثُمَّ سوتا ہے تو امانت دل سے سمیٹ لی جاتی ہے اور يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ فَيَبْقَى فِيهَا پھر اس کا نشان ایک کالے داغ کی طرح رہ جاتا أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَخرَجْتَهُ ہے۔پھر ایک بار سوتا ہے تو وہ اور سمیٹ لی جاتی