صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 288
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸۸ ۹۲ - کتاب الفتن ہے اور اس طرح کی دوسری احادیث ہیں۔ مشہور صحابی حضرت ابوبکرہ اور بعض دوسرے صحابہ کا مسلک بھی یہی تھا۔ بعض کا قول ہے کہ خونریزی کی ابتدا خود نہیں کرنی چاہئے لیکن اگر کوئی خونریزی کرے تو اس کا دفعیہ کرنالازم ہے جمہور صحابہ بہ اور تابعین کا مسلک ہے کہ اگر مسلمانوں میں باہمی پھوٹ پڑ جائے اور وہ ایک دوسر ئے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہو کر قتال کرنے لگیں تو اس فریق کی حمایت کرنی چاہئے جو حق و انصاف پر ہو اور جو فریق ظلم و نا انصافی کی راہ اختیار کئے ہوئے ہو یا مسلمانوں کے امام و سردار سے بغاوت کر کے ملی افتراق و انتشار کا سبب بن رہا ہو اس کے خلاف قتال کرنا چاہئے ( فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۴۳) کیونکہ اگر ایسانہ کیا گیا تو فتنہ و فساد کا بازار گرم ہو جائے گا اور بغاوت و سرکشی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس مسلک کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : وَ إِنْ طَائِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا (الحجرات : ۱۰) اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں۔ آیت کریمہ اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ جب مسلمانوں کے دو فریق باہمی قتال اور خونریزی میں مبتلا ہوں تو ان کے درمیان صلح و صفائی کرانی چاہئے اور فریقین کو اس فتنہ و انتشار سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہے۔ لیکن اگر ان دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے فریق کے نزدیک حد سے تجاوز کرے اور اس فتنہ کو جاری رکھنے اور بھڑکانے میں مصروف رہے تو پھر اس فریق کے خلاف جو حد سے متجاوز اور فتنہ کو بھڑ کانے کا باعث بن رہا ہو تلوار اٹھا لینی چاہئے اور اس کے ساتھ قتال کرنا چاہئے تا کہ وہ راہ حق پر آجائے۔ اسلام کسی قسم کی متشددانہ کارروائی اور انتہا پسندی کا روادار نہیں اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دیتا بلکہ متعلقہ فورم پر مسئلہ اٹھانے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر فریق کو اپنا موقف بیان کرنے اور اپنی صفائی دینے کا پورا حق دیتا ہے اور جبر آکسی کو اپنا ہم خیال بنانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ دلیل کے ساتھ ہر ایک کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ مسلمانوں کی ان باہمی لڑائیوں فسادات اور جھگڑوں کو محض علمی دلیلوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان تمام فتنوں کے خاتمہ اور ان اختلافات اختلافات کا حل اس حکم عدل کے بغیر م بغیر ممکن نہیں ہے جس کی پیشگوئی مخبر صادق حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ۔ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكُنَّ أَن يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ المَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریب ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں، عادل حکم ہو کر وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو مار ڈالا و اور ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور مال اس بہتات سے ہو گا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔ یہ حدیث رسول ایک ایسے امام اور لیڈر کی ضرورت ناگزیر قرار دیتی ہے جو خدا کی راہنمائی سے فیصلے کرے اور الہی تائید و نصرت اس کے شامل حال ہو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دی کہ مسلمانوں کی کوئی صدی ایسے ربانی مصلحین سے خالی نہ ہو گی۔ نیز اس کے ساتھ اس مہدی اور مسیح کی آمد کی خبر دی جو حکم عدل بن کر آئے گا۔ (صحيح البخاري، كتاب أحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ ، بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، روایت نمبر ۳۴۴۸)