صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 289
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸۹ ۹۲ - كتاب الفتن فَكِلاهُمَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ سے مراد جنگ کی آگ ہی ہے جس میں وہ دونوں فریق جل رہے ہوتے ہیں اور اس جملہ سے دونوں کو جنگ کی اس آگ سے نکلنے اور اسے بجھانے کی تاکید کی گئی ہے اور اگر جہنم کی آگ مراد ہو تو اس کا تعلق ہر گروہ کی نیت اور مقصد سے ہے کہ وہ یہ جنگ کیوں لڑ رہا ہے۔حصولِ اقتدار کے لیے ، مال و دولت کے لیے اپنی بہادری دکھانے کے لیے یا محض اللہ۔بَاب ۱۱: كَيْفَ الْأَمْرُ إِذَا لَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ جب جماعت نہ ہو تو پھر کیا رویہ ہو ٧٠٨٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۷۰۸۴ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ولید حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا بن مسلم نے ہمیں بتایا۔(عبد الرحمن بن یزید ) بن ابْنُ جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ جابر نے ہمیں بتایا۔بُسر بن عبید اللہ حضرمی نے الْحَضْرَمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوادر میں خولانی الْخَوْلَانِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ سے سنا۔ابوادر میں نے حضرت حذیفہ بن یمان الْيَمَانِ يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلی باتوں کے متعلق پوچھا کرتے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن تھے اور میں آپ سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِ مَخَافَةَ اس ڈر سے کہ وہ شر مجھے آنہ گھیرے۔میں نے أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کہا: یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍ جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍ فَجَاءَنَا اللَّهُ ہمارے پاس یہ بھلائی لایا تو کیا اس بھلائی کے بعد الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ بھی کوئی شر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔میں نے شَرٌ؟ قَالَ نَعَمْ۔قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ پوچھا، کیا اس شر کے بعد بھی کوئی بھلائی ہے؟ ذَلِكَ الشَّرِ مِنْ خَيْرِ؟ قَالَ نَعَمْ۔وَفِيهِ آپ نے فرمایا: ہاں اور اس میں کچھ نقص بھی دَخَنٌ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ قَوْمٌ ہوگا۔میں نے کہا: اس میں کیا نقص ہو گا؟ آپ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں جو میرے راستے کے سوا