صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 287
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸۷ ۹۲ - کتاب الفتن حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا۔سلیمان بن حرب) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں یہی بتایا۔وَقَالَ مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ اور مومل نے کہا: حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ وَهِشَامٌ وَمُعَلَّى کہ ایوب اور یونس اور ہشام اور معلی بن زید نے بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ ہمیں بتایا۔انہوں نے حسن (بصری) سے حسن عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله نے اخف (بن قیس) سے، احنف نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ ابو بکرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وَرَوَاهُ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ روایت کی۔اور معمر نے بھی ایوب سے اس کو عَنْ أَبِي بَكْرَةَ۔روایت کیا۔اور بکار بن عبد العزیز نے بھی اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابو بکرہ سے اس کو روایت کیا۔وَقَالَ غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ اور غندر نے کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔اُنہوں عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ نے منصور سے ، منصور نے ربعی بن حراش سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ربعی نے حضرت ابو بکرہ سے، انہوں نے نبی صلی وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ۔اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔اور سفیان (ثوری) نے منصور ( بن معتمر) سے روایت کرتے ہوئے أطرافه : ٣١، ٦٨٧٥ - اس کو مرفوعا بیان نہیں کیا۔شريح : إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهما: اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں۔علماءہ کے ہاں یہ ایک طویل بحث ہے کہ اگر افتراق و انتشار کا کوئی فتنہ ابھر آئے اور کچھ مسلمان دو فریق میں تقسیم ہو کر آپس میں جنگ وجدال کرنے لگیں تو اس وقت باقی مسلمانوں کا طرز عمل کیا ہونا چاہیئے ؟ اہل علم کی ایک جماعت کا یہ کہنا ہے کہ افتراق وانتشار اور مسلمانوں کی باہمی محاذ آرائی کی صورت میں کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ قتال میں شریک ہو، بلکہ جب مسلمانوں کے دو فریق آپس میں جنگ وجدال کریں تو اس میں شامل ہونے سے احتراز کرنا اور دونوں فریقوں سے غیر جانب داری اختیار کر کے گوشہ عافیت پکڑنا واجب ہے۔ان کی دلیل مذکورہ بالا ارشادِ نبوی