صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 286
صحیح البخاری جلد ۱۶ PAY بَاب ١٠: إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں ۹۲ - کتاب الفتن ۷۰۸۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۷۰۸۳: عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ رَجُلٍ کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے ایک شخص جس لَمْ يُسَمِّهِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ خَرَجْتُ کا انہوں نے نام نہیں لیا سے روایت کی کہ حسن بِسِلَاحِي لَيَالِيَ الْفِتْنَةِ فَاسْتَقْبَلَنِي (بصرى) سے مروی ہے انہوں نے کہا: فتنے کے أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ أُرِيدُ زمانے میں میں اپنے ہتھیار لے کر نکلا تو حضرت نُصْرَةَ ابْن عَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله ابو بکرہ مجھے راستے میں ملے۔انہوں نے پوچھا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ تم کہاں جارہے ہو ؟ میں نے کہا: میں رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَاجَهَ صلى الله علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے کی مدد کرنا چاہتا الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَكِلَاهُمَا مِنْ ہوں۔حضرت ابو بکرہ نے کہا: رسول اللہ علی الیکم أَهْلِ النَّارِ قِيلَ فَهَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر الْمَقْتُولِ؟ قَالَ إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ۔ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں تو وہ دونوں دوزخیوں میں سے ہیں۔آپ سے پوچھا گیا: یہ تو قاتل ہوا اور جو مارا گیا ہے وہ کیوں؟ آپ نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ فَذَكَرْتُ هَذَا حماد بن زید نے کہا: میں نے یہ حدیث ایوب اور الْحَدِيثَ لِأَيُّوبَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ یونس بن عبید سے بیان کی اور میں یہ چاہتا تھا کہ وہ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ يُحَدِّثَانِي بِهِ فَقَالَا إِنَّمَا دونوں مجھے اس کے متعلق بتائیں۔انہوں نے رَوَى هَذَا الحَدِيثَ الْحَسَنُ عَنِ کہا۔اس حدیث کو حسن نے احنف بن قیس سے، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ احنف نے حضرت ابو بکرہ سے روایت کیا۔