صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 283 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 283

۲۸۳ صحیح البخاری جلد ۱۹ ۹۲ - كتاب الفتن اس لیے بعض شارحین نے عبد اللہ کو صحابہ میں شمار کیا ہے۔معنونہ روایت نمبر ۷۰۷۸ میں ذکر ہے حِينَ حَرقَهُ جَارِيَةُ بن قدامہ جاریہ کا پورا نام جاریہ بن قدامہ بن مالک بن زہیر بن الحصين التمیمی ہے۔امام ابو جعفر طبری نے ۳۸ ہجری کے واقعات میں یہ بیان کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس حضرت علی کی طرف سے بصرہ کے حاکم تھے انہوں نے زیاد بن سمیہ کو بصرہ پر اپنا نائب بنایا دوسری طرف حضرت امیر معاویہ نے عبد اللہ بن عمر و الحضرمی کو بصرہ بھیجا کہ وہ ان کے لیے بصرہ کی حکومت حاصل کریں وہ بنو تمیم میں آکر ٹھہرے اور حضرت عثمان کے قصاص کے حامی ان سے آملے۔زیاد جو بصرہ میں حضرت ابن عباس کے قائم مقام کے طور پر حضرت علی کی طرف سے بصرہ کے گورنر تھے۔انہوں نے حضرت علی سے کمک طلب کی۔حضرت علی نے ان کے پاس امین بن ضبیعہ مجاشعی کو بھیجا۔ضبیعہ کو دھوکہ سے قتل کر دیا گیا اس کے بعد حضرت علی نے جاریہ بن قدامہ کو بھیجا۔جاریہ نے ابن الحضرمی کو اس گھر میں محصور کر دیا جس میں وہ ٹھہرا ہوا تھا اور اس گھر کو آگ لگادی اس کے ساتھ ابن حضرمی کے چالیس یا ستر آدمی بھی جل گئے۔طبری میں لکھا ہے جاریہ بن قدامہ یزید بن معاویہ کے زمانے میں فوت ہوا۔جار یہ حضرت ابو بکرہ کے پاس بھی اس لڑائی کا حصہ بننے کے لیے گیا مگر حضرت ابو بکر ڈ نے کہا اگر یہ لوگ میرے گھر میں گھس آئیں اور مجھے سے قتال کریں تب بھی میں ان کی طرف چھڑی یا تنکا تک نہ اُٹھاؤں گا۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۳۷،۳۶) حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بڑا واضح فرمایا تھا کہ آج کے دن تمہارے خون، مال، تمہاری آبروئیں تم پر حرام اور قابل احترام ہیں۔بالکل اسی طرح جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینہ میں واجب الاحترام ہے۔اے لوگو! عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے ، وہ تم سے پوچھے گا کہ تم نے کیسے عمل کئے۔دیکھو میرے بعد دوبارہ کا فرنہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگ جاؤ۔اور آگاہ رہو تم میں سے جو یہاں موجود ہے اُن لوگوں کو پیغام پہنچا دے جو کہ موجود نہیں۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس کو پیغام پہنچایا جائے وہ سننے والے سے زیادہ سمجھ دار ہو۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ تین بار دہرائے۔حضرت ابو بکر سے یہ روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ہے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تعالیٰ ! گواہ رہنا۔۔اب یہ پیغام ہے جو ان کو مل رہا ہے اور یہ عمل