صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 284
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸۴ ۹۲ - كتاب الفتن ہیں جو ہمیں نظر آرہے ہیں۔پس اس واضح ارشاد کے بعد نام نہاد علماء کے پاس کیا رہ جاتا ہے کہ ظلم و تعدی کے بازار گرم کریں اور آپس میں دین کے نام پر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں۔(خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده یکم مارچ ، ۲۰۱۳، جلد ۱۱، صفحه ۱۴۰) بَاب ٩ : تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ایک ایسا فتنہ ہو گا کہ جس میں بیٹھا ہوا، کھڑے شخص سے بہتر ہو گا ۷۰۸۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ۷۰۸۱: محمد بن عبید اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَنْ أَبِيهِ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے اپنے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ باپ سے ، اُن کے باپ نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَحَدَّثَنِي سے ، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ابراہیم بن سعد ) نے کہا اور صالح بن کیسان نے عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي بھی مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے ابن شہاب سے، هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَكُونُ فِتَنْ الْقَاعِدُ فِيهَا حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی انہوں نے کہا: خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ ایسے فتنے ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ رہنے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا رہنے والا چلنے فَمَنْ وَجَدَ مِنْهَا مَلْجَأَ أَوْ مَعَاذَا والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو۔جو اس کو جھانک کر دیکھے گا وہ فتنہ اس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔اس لئے جو شخص اس فتنہ میں کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام پائے فَلْيَعُذْ بِهِ۔تو وہ اس میں پناہ لے۔أطرافه : ٣٦٠١، ۷۰۸۲-