صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 282 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 282

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸۲ ۹۲ - كتاب الفتن ۷۰۷۹ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابِ ۷۰۷۹ : احمد بن اشکاب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ سے ، اُن کے باپ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْتَدُّوا بَعْدِي كُفَّارًا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔ کہیں پھر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں طرفه : ۱۷۳۹ مارتے پھرو۔ ۷۰۸۰ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۷۰۸۰ : سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے علی بن مدرک سے سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ روایت کی کہ میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر جَرِيرٍ عَنْ جَدِهِ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ لِي سے سنا۔ اُنہوں نے اپنے دادا (جریر بن بجلی) سے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ حَجَّةِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ثُمَّ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا: قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ لوگوں کو خاموش کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: میرے بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔ گردن زنی کرنے لگ جاؤ۔ أطرافه : ١٢١، ٤٤٠٥، ٦٨٦٩- بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی تشريح ۔ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ: ي نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرے بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے رہو۔ زیر باب روایت نمبر ۷۰۷۸ کے آخری حصہ میں یہ ذکر ہے فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حُرِّقَ ابْنُ الْحَضْرَنِي حِينَ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدامَة : جب وہ دن ہوا کہ جس دن عبد اللہ بن عمر و حضر می کو جاریہ بن قدامہ نے جلا دیا۔ ابن الحضرمی سے مراد عبد اللہ بن عمرو بن الحضرمی ہیں ان کا والد عمرو بن الحضرمی غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین میں سے سب سے پہلا قتل ہونے والا شخص تھا۔ اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ عبد اللہ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت نصیب ہوئی تھی۔