صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 281
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۸۱ ۹۲ - كتاب الفتن الْحَرَامِ؟ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ دن کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا یہ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے کہ بے شک یا رسول اللہ ۔ وَأَبْشَارَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ آپؐ نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ وہی حرمت والا شہر نہیں ؟ ہم نے کہا: بے شک ہاں يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا: تو پھر تمہارے خون بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ قُلْنَا اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں اور تمہارے نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغ بدن کے چڑے تمہارے لئے ایسے ہی معزز ہیں الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغ جیسا کہ تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے يُبَلِّغُهُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ فَكَانَ اس شہر میں معزز ہے۔ سنو ! کیا میں نے یہ حکم پہنچا كَذَلِكَ، قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي دیا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ ! وہ گواہ رہ۔ جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچاوے کیونکہ كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، کبھی اپنی بے پنچایا جاتاہے ایسا بھی ہوتا ہے جو فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حُرِّقَ ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ بات کو سمجھنے والا یاد رکھنے والا ہوتا ہے اور ایسا ہی حِينَ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ ہوا۔ آپ نے فرمایا: میرے بعد پھر کافر نہ بن جانا کہ أَشْرِفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ فَقَالُوا هَذَا تم ایک دوسرے کی گردن زنی کرتے پھرو۔ جب أَبُو بَكْرَةَ يَرَاكَ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وہ دن ہوا کہ جس دن عبد اللہ بن عمرو حضر می کو فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ قَالَ جاریہ بن قدامہ نے جلا دیا۔ جاریہ نے کہا: ابوبکرہ لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ بِقَصَبَةٍ۔ کو جھانک کر دیکھو۔ لوگوں نے کہا: یہ حضرت ابو بکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔ عبد الرحمن بن ابی بکرہ کہتے تھے: میری والدہ نے حضرت ابوبکرہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ لوگ میرے پاس اندر آبھی جائیں تو میں مقابلے کے لئے ایک کا نا (سرکنڈا) بھی نہ پکڑوں گا۔ أطرافه : ٦٧ ، ١٠٥ ، ١٧٤١، ٣١٩٧، ٤٤٠٦، ٤٦٦٢، ٥٥٥٠، ٧٤٤٧-