صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 6
صحیح البخاری جلد ۱۶ Y ۸۸- کتاب استتابة المرتدين۔۔۔۔ دنیا پر زور دیا جاوے۔ اسی کا نام شرک ہے۔ اور معاصی کی مثال تو حقہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑ دینے سے کوئی دقت و مشکل کی بات نظر نہیں آتی مگر شرک کی مثال افیم کی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑنا محال ہے۔“ ملفوظات، جلد ۳ صفحه ۳۴۴) بَاب : حُكْمُ الْمُرْتَدِ وَالْمُرْتَدَّةِ وَاسْتِتَابَتِهِمْ مرتد مرد اور مرتد عورت کے متعلق حکم نیز ان سے تو بہ لئے جانے کے متعلق حکم ر وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَالزُّهْرِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ اور حضرت (عبد الله ) ابن عمرؓ اور : زہری اور ابراہیم تُقْتَلُ الْمُرْتَدَّةُ وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: (مخفی) نے کہا کہ مرتد عورت بھی قتل کی جائے كَيْفَ يَهْدِي اللهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنہوں نے ایمان لانے کے بعد انکار کر دیا إِيْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَ جَاءَهُمُ الْبَيِّنَتُ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ حالانکہ وہ جان چکے ہیں کہ رسول سچا ہے اور اُن کے پاس کھلے کھلے دلائل بھی آگئے، اور اللہ ان لوگوں لوگ الظَّلِمِينَ أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ کی رہنمائی نہیں کرتا جو ظالم ہوتے ہیں۔ یہی لو لَعْنَةَ اللهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ہیں جن کی سزا یہ ہو گی کہ اُن پر اللہ اور فرشتوں خُلِدِينَ فِيهَا ۚ لَا يُخَفِّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔ وہ اس لعنت میں وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ رہیں گے اُن سے یہ سزا نہ کم کی جائے گی اور نہ اُن بَعْدِ ذَلِكَ وَ أَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ پر نظر رحم کی جائے گی سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کی تو اللہ غفور رَّحِيمُ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَ رحیم ہے۔ جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور پھر وہ کفر میں بڑھتے چلے گئے تو ان کی تو بہ ہرگز أُولَئِكَ هُمُ الضَّالُونَ ) O (آل عمران: ۸۷ قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔ نیز (۹۱) وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن فرمایا: اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم اُن لوگوں تُطِيعُوا فَرِيقًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ میں سے جن کو کتاب دی گئی ہے ایک گروہ کے