صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 5
صحیح البخاری جلد ۱۹ -۸۸ کتاب استتابة المرتدين ہے کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ عدم سے وجود میں لایا اور وہ عدم سے وجود میں لانے والے کو اس کے مساوی قرار دیتا ہے جو خود عدم میں تھا اور نعمت کو غیر منعم کی طرف منسوب کرتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا إلهَ إِلَّا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہیئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہیئے۔ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بُت پرست ہے۔بُبت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگہ میں بہت ہے۔“ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۲۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: "شرک تین قسم کا ہے۔اول یہ کہ عام طور پر بت پرستی، درخت پرستی وغیرہ کی جاوے۔یہ سب سے عام اور موٹی قسم کا شرک ہے۔دوسری قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا جاوے کہ فلاں کام نہ ہو تا تو میں ہلاک ہو جاتا۔یہ بھی شرک ہے۔تیسری قسم شرک کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو بھی کوئی شے سمجھا جاوے۔موٹے شرک میں تو آج کل اس روشنی اور عقل کے زمانہ میں کوئی گرفتار نہیں ہوتا، البتہ اس مادی ترقی کے زمانہ میں شرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے۔“ (ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۲۱۶،۲۱۵) حضرت اقدس مزید فرماتے ہیں: ہر ایک گناہ بخشنے کے قابل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کو معبود و کار ساز جاننا ایک نا قابل عفو گناہ ہے۔اِنَّ الشَّرُكَ لَظُلُمٌ عَظِيمُ (لقمان: ۱۴) لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ به (النساء:۴۹) یہاں شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات