صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 4 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 4

صحیح البخاری جلد ۱۶ سلام ۸۸ کتاب استتابة المرتدين۔۔۔ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ قُلْتُ وَمَا الْيَمِينُ کی نافرمانی کرنا۔ اس نے پوچھا: پھر کونسا؟ آپ نے الْغَمُوسُ؟ قَالَ الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ فرمایا: عمد أ جھوٹی قسم کھانا۔ (حضرت عبد اللہ بن امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا كَاذِبٌ۔ عمرو کہتے تھے) میں نے کہا: یمین غموس کیا ہوتی أطرافه: ٦٦٧٥ ، ٦٨٧٠- ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ قسم جس کے ذریعہ سے کسی مسلمان آدمی کا مال ہتھیا لے جبکہ وہ اس قسم میں جھوٹا ہو۔ ٦٩٢١ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ۱۹۲۱ : خلاد بن یحی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے منصور اور عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اعمش سے، اُن دونوں نے ابو وائل سے ، ابو وائل اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ کی۔ وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ ہم سے اُن اعمال کا بھی مؤاخذہ ہو گا جو ہم نے يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ زمانہ جاہلیت میں کئے؟ آپ نے فرمایا: جس نے أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ اسلام میں اچھے کام کئے تو اُس سے اُن کاموں کا مواخذہ نہیں ہو گا جو اُس نے جاہلیت میں کئے اور وَالْآخِرِ۔ جس نے اسلام میں بھی بُرے کام کئے اُس سے پہلے اور پچھلے اعمال کا بھی مواخذہ کیا جائے گا۔ تشريح : إِثْمُ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ وَعُقُوبَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ : اس شخص کا نا جو اللہ کا شریک ٹھہرائے اور دنیا و آخرت میں اس کی سزا۔ عنوان باب کی ذیل میں امام بخاری سورہ لقمان کی آيت إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: (۱۴) کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے، لائے ہیں۔ علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں: أَصْلُ الظُّلْمِ وَضْعُ الشَّيْء فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ، فَالْمُشْرِكُ أَصْلُ مِنْ وَضْعِ الشَّيْء فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ، لِأَنَّهُ جُعِلَ لِمَنْ أَخْرَجَهُ مِنَ الْعَدَمِ إِلَى الْوُجُودِ مُسَاوِيًّا، فَنَسَبَ النِّعْمَةَ إِلَى غَيْرِ الْمُنْعِمِ بِهَا (عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحه ۷۵) ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی جگہ اور محل سے ہٹا کر رکھنا، پس مشرک وہ ہے جو اصل چیز کو اس کے غیر محل میں رکھتا