صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 263 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 263

۲۶۳ صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۲ - کتاب الفتن بلکہ یہ حکم ہے کہ سنو اور اطاعت کرو إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَ كُمْ مِنَ الله فيه بُرھان سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ طور پر کفر دیکھو کہ جس کے متعلق اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کھلی کھلی دلیل بھی ہو۔اطاعت کی اصل روح یہ ہے کہ خلاف مرضی حکم بھی ہو تو بلا چوں چر امانا جائے اور اس پر کما حقہ عمل کیا جائے۔زیر باب حدیث (۷۰۵۲) کے الفاظ کہ أَذُوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ تم ان کا حق ان کو دو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔اگر اس نصیحت کو حرز جان بنایا جائے اور فرائض کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی جائے اور اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کیا جائے تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔جہاں تک حقوق کا تعلق ہے ان کے حصول کے لیے کوشش کرنا جائز ہے لیکن فتنہ وفساد پیدا کر کے جدال اور جھگڑے کی صورت پیدا کر لینا اور قانون اپنے ہاتھ میں لینا، یہ جائز نہیں۔اس لیے اسلام اپنے حقوق کے لیے کسی قسم کے احتجاج یا سٹرائیک کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسے بغاوت سے تعبیر کرتا ہے اور باغی کی سزا قتل ہے۔پس کسی حکومت یا نظام کے اندر رہتے ہوئے بغاوت کی ہر گز اجازت نہیں۔بلکہ اولوالامر کی اطاعت ضروری ہے۔اگر یہ ممکن نہ ہو اسلام ایسے مظلوموں کے لیے دو طریق بتاتا ہے۔اوّل: وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ یعنی اپنا حق اللہ سے مانگو اس میں دعا پر یقین اور اس کی تاثیر جسے آب و آتش سے بڑھ کر بیان کیا گیا ہے کے حربہ کو استعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔جس کا حق مارا گیا ہو وہ دعا سے کام لے تو خدا تعالیٰ ظالم حاکم کو بدل دے گا مگر اس کے لیے لمبے صبر اور بر داشت کی ضرورت ہوتی ہے۔جن لوگوں سے صبر کا دامن چھوٹ جائے اور ان کی قوت برداشت جواب دے دے ان کے لیے دوسرا راستہ ہے یعنی ہجرت کا کہ اگر استطاعت رکھتے ہوں تو اس علاقہ یا حکومت کی عمل داری کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ گزین ہوں اور جس ملک میں جائیں اس کے قوانین کی اطاعت اور پاسداری کریں۔مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةٌ: جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہوا اور پھر وہ ایسی حالت میں مر گیا تو وہ یقینا جاہلیت کی موت مرا۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ہمیشہ یاد رکھو کہ تمہارا اصح نظر، تمہارا مقصد حیات صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا ہونا چاہئے۔اور یہی کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے نظام کے جو احکامات وقواعد اور فیصلے ہیں ان کی پابندی کرنی ہے اور اس بارے میں اپنی اطاعت میں بالکل فرق نہیں آنے دینا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے ناپسندیدہ بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو نظام سے بالشت بھر جدا ہو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة الى الكفر) بعض لوگ،