صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 262
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۶۲ ۹۲ - كتاب الفتن ٧٠٥٦: فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ ۷۰۵۶: منجملہ ان اقراروں کے جو آپ نے ہم بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي سے لئے یہ تھا کہ آپ نے ہم سے یہ بیعت لی کہ مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا ہم خوشی اور نا خوشی مہنگی اور آسائش ! ن اور اس حالت وَأَثَرَةً عَلَيْنَا وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ میں بھی کہ جب ہماری حق تلفی کی جارہی ہو إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ (احکام کو) سنیں گے اور فرمانبرداری کریں گے اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ۔ اور یہ کہ اہل حکومت سے ہم حکومت نہیں چھینیں گے۔ سوائے اس کے کہ تم علانیہ طور پر کفر دیکھو کہ جس کے متعلق اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کھلی کھلی دلیل بھی ہو۔ طرفه : ۷۲۰۰ - ٧٠٥٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ۷۰۵۷: محمد بن عرعرہ سے ہم نے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ مَالِكٍ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا نے حضرت انس بن مالک سے ، حضرت انس نے أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت اُسید بن حضیرؓ سے روایت کی کہ ایک فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا شخص نبي شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کے آیا اور کہنے لگا: وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي قَالَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ يا رسول اللہ ! آپ نے فلاں کو عامل مقرر کیا ہے اور مجھے عامل مقرر نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا: بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي۔ عنقریب تم میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے۔ طرفه : ۳۷۹۲ رُونَهَا : اُس وقت تک کہ مجھ سے ملو تم صبر کرنا۔ وسلم ا یہ فرمانا: میرے بعد عنقریب تم ایسی تشریح: ي : سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُوا تُو و ا ب ا لا اله علی کل کا یہ فرمانا بعد باتیں دیکھو گے جنہیں تم بر امناؤ گے۔ یعنی ایسے احکام تمہیں دیئے جائیں گے جو معروف کے خلاف لگیں گے اور وہ تمہیں عجیب اور اوپرے لگیں گے مگر جب تک واضح طور پر خلاف شریعت کوئی حکم نہ دیا جائے تمہیں ان بظاہر مشکر“ احکام کی تعمیل کرنی ہو گی اور تمہارا یہ کام نہیں کہ تم معروف اور منکر کی بحث کرو کیونکہ معروف کا لفظ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے الفاظ میں بھی آیا ہے۔ اب کیا کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام میں بھی معروف اور غیر معروف کی تمیز کرے گا اور جو اس کے نزدیک معروف ہو گا اس کی تعمیل کرے گا؟ نہیں۔