صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 264
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۶۴ ۹۲ - کتاب الفتن - لوگوں میں بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ نظام نے یہ فیصلہ کیا فلاں کے حق میں اور میرے خلاف۔لیکن میں نے صبر کیا لیکن فیصلہ بہر حال غلط تھا۔میں نے مان تولیا لیکن فیصلہ غلط تھا۔تو اس طرح لوگوں میں بیٹھ کر گھما پھر اگر یہ باتیں کرنا بھی صبر نہیں ہے۔صبر یہ ہے کہ خاموش ہو جاتے اور اپنی فریاد اللہ تعالیٰ کے آگے کرتے۔ہو سکتا ہے جہاں بیٹھ کر باتیں کی گئی ہوں وہاں ایسی طبیعت کے مالک لوگ بیٹھے ہوں جو یہ باتیں آگے لوگوں میں پھیلا کر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس طرح نظام کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو۔اور اس سے بعض دفعہ فتنے کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اور پھر جو لوگ اس فتنے میں ملوث ہو جاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ پھر وہ جاہلیت کی موت مرتے ہیں۔“ خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۷ اگست ۲۰۰۴ جلد ۲ صفحه ۶۱۱) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " کیا اطاعت ایک سہل امر ہے جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلہ کو بدنام کرتا ہے حکم ایک نہیں ہو تا بلکہ حکم تو بہت ہیں جس طرح بہشت کے کئی دروازے ہیں کہ کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے اور کوئی کسی سے داخل ہوتا ہے اسی طرح دوزخ کے کئی دروازے ہیں ایسا نہ ہو کہ تم ایک دروازہ تو دوزخ کا بند کرو اور دوسرا کھلا رکھو۔“ (ملفوظات، جلد دوم صفحہ ۴۱۱) نیز فرمایا: ”اگر حاکم ظالم ہو تو اس کو برانہ کہتے پھر بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو خدا اُس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بد عملیوں کے سبب آتی ہے ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔مومن کے لئے خد اتعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔" نیز فرمایا: ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، جلد دوم صفحه ۲۴۶) اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔اطاعت ایک ایسی چیز